نکاح

کیا مزنیہ عورت سے نکاح کی اجازت ہے؟

فتوی نمبر :
6121
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا مزنیہ عورت سے نکاح کی اجازت ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
(1) آج کل کے دور میں نظروں کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟ انسان بچنا بھی چاہے تو بچنا مشکل ہو جاتا ہے؟
(۲) میرے ایک دوست ہیں وہ لڑکی سے محبت کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے مل چکے ہیں اور بوسہ وغیرہ بھی کر چکے ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ وہ شادی کر لیں، مگر والدین راضی نہیں، وہ کیا کریں اور اگر انہوں نے جماع کے علاوہ سب کچھ کیا ہے تو ؟
(۳) اگر ایک انسان کسی سے زنا کر لے اور بعد میں اس سے نکاح کرلے تو کیا جائز ہے؟ وضاحت سے بتا یئے گا ۔ اصلاح اور فتوی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) دل میں اگر خوف خدا پیدا ہو جائے تو تمام اوامرِ شرعیہ پر عمل آسان ہو جاتا ہے، اور اس خوف کے پیدا کرنے کے لئے متقی وپرہیزگار لوگوں کی صحبت کا اختیار کرنا اور سنتِ نبوی کا اتباع بڑے اسباب ہیں، اس لئے سائل کو چاہئیے کہ ان دونوں امور کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین اور بے ریش لڑکوں کے ساتھ اختلاط سے اجتناب اور بد نظری جیسے مرض سے بھی بچنے کی کوشش کرے اور تنہائی میں بیٹھ کر تیسرے کلمے کا ورد بھی کیا کرے ان شاء الله ان امور کی پابندی اس کیلئے بہت مفید ثابت ہوگی۔
(۲، ۳) اگر چہ اپنی مزنیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے، مگر کسی غیر محرم کے ساتھ اس طرح باہم بے تکلفی اختیار کرنا اور فعل شنیع کا ارتکاب کر لینا ہر دو امور بلاشبہ ناجائز اور حرام اور عذابِ الہی کو دعوت دینے والے ہیں ، اس لئے شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ وہ ایسے ناجائز و حرام امور سے مکمل طور پر بچنے کی فکر کرے اور جو افعالِ شنیعہ اب تک سرزد ہو چکے ہیں ،ان پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے بھی ان امورِغیر شرعیہ سے مکمل طور پر احتراز کرے، اور جو گھر والے راضی ہوں یا انہیں آگاہ کر کے اپنی مزنیہ کے ساتھ عقدِ نکاح بھی کر لے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلك ازکیٰ لھم ان خبیر بما یصنعون (النور: 30 الآیۃ)۔
وفی تفسیر ابن کثیر: یقول اللہ تعالیٰ: ناھیا عبادہ عن الزنا وعن مقاربتہ ومخالطۃ اسبابہ ودواعیہ( ولاتقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ) ای ذنباً عظیماً (وساء سبیلاً) ای بئس طریقاً ومسلکاً (سورۃ الاسراء۔ج3/ص55)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: عن الحسن مرسلاً قال بلغنی ان رسول اللہ ﷺ قال: لعن اللہ الناظر والمنظور الیہ اھ(2/270)۔
وفی الدرالمختار: لونکحھا الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقاً اھ(3/49)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
خادم حسین منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6121کی تصدیق کریں
0     409
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات