نکاح

نکاح کے وقت غیرحقیقی والد کی طرف نسبت کرنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
62260
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے وقت غیرحقیقی والد کی طرف نسبت کرنے سے نکاح کا حکم

چچا نے اپنی بھتیجی کو گود لیا اور بچپن سے ہی سرکاری کاغذات میں حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھوایا اور اب نکاح کے وقت بھی نکاح نامہ پر حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھوایا اور نہ ہی ایجاب وقبول کے وقت حقیقی والد کا نام لیا تو کیا لڑکی کا نکاح صحیح ہوگیا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لے پالک لڑکی کو اگر نکاح کے گواہان ذاتی طور پر جانتے تھے یا مجلسِ عقد میں وہ لڑکی بذاتِ خود موجود تھی تو ولدیت غلط ذکر کرنے کے باوجود بھی نکاح درست منعقد ہوچکا ہے،تاہم لے پالک بچوں کی ولدیت غلط لکھنا(یعنی پرورش کرنے والے کی طرف منسوب کرنا) قرآن وحدیث کی رو سے ناجائز وحرام ہے،جس سے احتراز اور ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام لکھنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ (الأحزاب: 5 الآیة)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: ولا المنكوحة مجهولة) فلو زوج بنته منه وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة، فينصرف إلى الفارغة كما في البزازية نهر، وفي معناه ما إذا كانت إحداهما محرمة عليه فليراجع رحمتي وإطلاق قوله لا يصح دال على عدم الصحة، ولو جرت مقدمات الخطبة على واحدة منهما بعينها لتتميز المنكوحة عند الشهود فإنه لا بد منه رملي قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها اھ(3/15)۔
وفیه أیضاً: (قوله: لم يصح) (الیٰ قوله) وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية اھ(3/26)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62260کی تصدیق کریں
0     501
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات