نکاح

بالغہ لڑکی کا بغیر ولی کی اجازت اور موجودگی کے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
62571
| تاریخ :
2023-02-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بالغہ لڑکی کا بغیر ولی کی اجازت اور موجودگی کے نکاح کرنا

کیا بالغہ لڑکی کو نکاح کیلئے ولی کی اجازت اور ولی کی موجودگی ضروری ہوتی ہے ؟ اگر ایک عاقل و بالغ لڑکے اور لڑکی نے گواہان کی موجودگی میں اپنے پورے ہوش و حواس میں کفؤ کی شرط پر پورا اترتے ہوۓ ایجاب و قبول کیا اور گواہان نے گواہی دی تو کیا شرعی طور پر نکاح ہو جاۓ گا ؟ اگر لڑکی اس نکاح کے کچھ عرصے بعد نکاح کو ماننے سے انکار کر دے تو کیا نکاح باقی رہے گا ؟ رہنمائی فرمائیں، بہت نوازش ہو گی ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جوان لڑکے اور لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر آپس میں نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے، اور اس طرح چھپ کر کیا ہوا نکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، اس لئے اس طرح کے نکاح سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر کسی عاقلہ بالغہ لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر کفؤ میں گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے مہر مثل پر نکاح کر لیا تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا ہے ، لہذا نکاح کے بعد لڑکی کا اس نکاح سے انکار کرنا شرعاً معتبر نہیں، اور اس کیلئے شوہر سے طلاق یا خلع لئے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے -

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار (و) الكفاءة (هي حق الولي لا حقها) فلو نكحت رجلا ولم تعلم فإذا هو عبد لا خيار لها بل للأولياء ولو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لا خيار لأحد إلا إذا شرطوا الكفاءة أو أخبرهم بها وقت العقد فزوجوها على ذلك ثم ظهر أنه غير كفء كان لهم الخيار۔اھ (3/86)
وفیه ايضاً: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) (وفی رد المحتار:تحت) (الی قوله) الأيم أحق بنفسها من وليها۔اھ (3/55)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 62571کی تصدیق کریں
1     1154
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات