نکاح

کیا بیوی کی ماں شریک بہن سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
62800
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا بیوی کی ماں شریک بہن سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

السلام علیکم ! سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی بیوی کی بڑی بہن سے نکاح کرسکتا ہوں،جو کہ دوسرے باپ سے ہے،لیکن دونوں کی ماں ایک ہی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جس طرح بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی حقیقی بہن سے نکاح شرعاً جائز نہیں،اسی طرح اس کی ماں شریک (اخیافی) بہن سے بھی نکاح شرعاً جائز نہیں،لہذا سائل کیلیے بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اپنی سوتیلی سالی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوی الھندیة: (وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط اھ(1/277)۔
وفی بدائع الصنائع: ولو تزوج أختین معاً فسد نکاحھما لأن نکاحھما حصل جمعاً بینھما فی النکاح ولیست احداھما بفساد النکاح بأولیٰ من الأخریٰ فیفرق بینہ وبینھما اھ (2/263)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62800کی تصدیق کریں
0     541
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات