السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مفتی صاحب میری شادی کو تقریباً 23 سال ہوگئے ہیں اور الحمدللہ 2 بچے بھی ہیں جو اب شادی کی عمروں تک پہنچ گئے ہیں , میرا مسئلہ یہ ہے کہ جب سے شادی ہوئی ہے میں مختلف معاشی مسائل اور مشاکل سے گزر رہا ہوں ,شادی کے شروع سالوں میں مجھ سےان مشاکل کی وجہ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں , جس کا میں اللہ سے توبہ و استغفار کرتا رہا ہوں , لیکن ایک مسئلہ سے نکلتا ہوں تو دوسری مشکل میں پھنس جاتا ہوں , اب حال یہ ہے کہ مجھ پر پہاڑ جیسا قرض چڑھ چکا ہے اور قرضداروں کا خوف حاوی رہتا ہے اور آج بھی بے تحاشہ تنگی سے گزر بسر ہورہا ہے -
اصل مسئلہ جو پوچھنا ہے, وہ یہ ہے کہ شادی کہ شروع کے مہینوں میں ہی میں اپنی بیوی کا زیور جو اسکو اپنے گھر سے اور میرے گھر سے ملا تھا , حق مہر تھا یعنی مہر عند الطلب تھا (میری طرف کا زیور) وہ میں نے اپنی بیوی کو بتائے بغیر اپنی مشکلات آسان کرنے کہ لئے سارا , دونوں طرف کا زیور بیچ دیا تھا , اب مجھ کو اور میری بیوی کو اپنے مسائل کی وجہ یہ لگتی ہے کہ چونکہ اپنی بیوی سے اجازت لیے بغیر حق مہر کا زیور استعمال کیا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا نکاح فاسد ہوچکا ہو اور ہم شریعت کے بر خلاف اپنی ازدواجی زندگی گزار رہے ہوں اور اس گناہ کی وجہ سے آج تک حالات سنبھل نہیں پارہے ہوں اور آج تک ہم مشاکل میں گھرے ہوئے ہیں-
ہم دونوں اللہ سے توبہ و استغفار اس معاملے میں بہت کرتے رہتے ہیں, بلکہ میں نے کسی سے قرض لیکر حق مہر کی ادائیگی بھی کی ہے اپنی بیوی کو-
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم دونوں کے نکاح میں کوئی فرق آیا ہوگا ؟ کیا ہمیں تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے؟ یا جو شرعی حکم اس پر لاگو ہوتا ہو , میں اور میری بیوی اللہ کی رضا کے لئے شریعت کو مقدم رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی شریعت کی حدود اور ضوابط پر گزارنا چاہتے ہیں اور اپنی اصلاح چاہتے ہیں-
تو آپ سے درخواست ہے کہ اس کا تفصیلی جواب عنایت فرمادیں- جزاکم اللہ بالخیر
سائل کیلئے بیوی کا سونا اس کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا درست نہیں تھا ،البتہ اس سے سائل اور اس کی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ، وہ حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ، بلاوجہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں -