السلام علیکم!
مفتی صاحب ، میر اسوال نکاح کے احکام کے بارے میں ہے، جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے، اگر نکاح پڑھاتے وقت ایجاب موجود ہی نہ ہو ، مطلب جو ایجاب کی جو پیشکش ہوتی ہے جیسے کہ کوئی لڑکا یا لڑکی سے یہ پوچھتے ہیں، کیا تمہیں اس سے نکاح قبول ہے؟ آگے سے جو اب آتا ہے قبول ہے، تو اگر نکاح میں ایجاب کا پوچھا ہی نہ جائے، سید ھالڑ کا یالڑ کی بول دے قبول ہے، تو کیا اس سے نکاح ہو جائے گا ؟یہ سوال ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا، لیکن ان کا جواب تھا اگر کسی ایک کا کلام ہو تو نہیں ہو گا، برائے مہربانی میرے اس سوال کا جواب دیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ ایجاب و قبول نکاح کے ارکان ہیں، اس کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہذا اگر ایجاب کے بغیر لڑکا یا لڑکی صرف قبول کہہ دے تو اس سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہو گا اور نہ ہی لڑکا لڑکی کا ایک ساتھ رہنا شر عاً جائز ہو گا، اس لئے مذکور طریقۂ کار سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت، (وفی رد المحتار: تحت) (قوله: من أحدهما) أشار إلى أن المتقدم من كلام العاقدين إيجاب سواء كان المتقدم كلام الزوج، أو كلام الزوجة والمتأخر قبول ح عن المنح فلا يتصور تقديم القبول، فقوله: تزوجت ابنتك إيجاب وقول الآخر زوجتكها قبول خلافا لمن قال إنه من تقديم القبول على الإيجاب وتمام تحقيقه في الفتح (قوله: لأن الماضي إلخ) قال في البحر: وإنما اختير لفظ الماضي؛ لأن واضع اللغة لم يضع للإنشاء لفظا خاصا، وإنما عرف الإنشاء بالشرع واختيار لفظ الماضي لدلالته على التحقيق والثبوت دون المستقبل۔اھ (3/9)