کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں عید کے موقع پر ایک دعوت میں کچھ لوگوں نے شرکت کی ، کھانا شروع کرنے سے پہلے انہوں نے دعا کرنے کا کہا مولانا صاحب جو وہاں پر تھے انہوں نے کہا کہ کھانے کے بعد دعا کرینگے ،لیکن ان لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی دعا کریں یعنی انہوں نے شروع میں اجتماعی دعا پر اصرار کیا اور یہاں تک کہنے لگے کہ ہم آج کے بعد تمہارے ہاں دعوت کھانے نہیں آ ئینگے،شریعت کی رو سے کھانے کی ابتداء اور انتہاء میں ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا اور اس کو اس حد تک ضروری سمجھنا کہ جب تک کھانے پر دعا نہ کی جائے وہ کھانا حتی کہ ایک گلاس پانی کا بھی نہ پینا اور ہاتھ اٹھاکر دعا نہ کرنے والوں سے قطعِ تعلق ہونا ،کیا شریعت میں ایسا کرنا درست ہے؟ بعد میں ان کے ایک مولانا نے کھانے پر دعا و فاتحہ کے ضروری ہونے پر مذکورہ فتوی جاری کیا ان کا یہ فتوی درست ہے؟شریعت کی رو سے مذکورہ مسئلہ کی تفصیل سے جواب عنایت فرمائے ۔شکریہ
نوٹ :جس فتوے کا حوالہ دیا گیا ہے ،وہ فتوی سینڈ نہیں کیا گیا،مستفتی سے بات کرنےپر ان کا استفسار ہےکہ آپ اس شق کو چھوڑ کرہمیں فقط شرعی حکم جو اصل مسئلہ کے متعلق ہو،بتلادیں۔
واضح ہو کہ کھانے کی ابتداءاور انتہاء میں ہاتھ اٹھا کراجتماعی دعا کرنا اور اس کو اس حد تک ضروری سمجھنا کہ جب تک کھانے پر دعا نہ کی جائے وہ کھانا نہ کھانا اور دعا کے لئےہاتھ نہ اٹھانے والوں سے قطع تعلقی کرناشرعاً درست نہیں ،بلکہ ایسا کرنا بدعت کے زمرےمیں آتا ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے،البتہ بغیر التزام کیے کسی موقع پر کھانا کھانے کے بعدہاتھ اٹھا کر میزبان کے حق میں خیرو برکت کی دعاکر لی جائے،تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
فی السنن الكبرى للنسائي : حدثنا عبد الله بن بسر قال : قال أبي لأمي , لو صنعت لرسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما، فصنعت ثريدة و قال بيده يقلل ، فانطلق أبي فدعاه فوضع يده على ذروتها ثم قال «خذوا بسم الله»، فأخذوا من نحوها فلما طعموا دعا لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم «اللهم اغفر لهم فارحمهم ، و بارك لهم فارزقهم» (6/265)۔
و فی فتح المنعم شرح صحيح مسلم : قال الحافظ ابن حجر: و البدعة أصلها ما أحدث على غير مثال سابق و تطلق في الشرع في مقابل السنة فتكون مذمومة و التحقيق أنها إن كانت مما تندرج تحت مستحسن في الشرع فهي حسنة و إن كانت مما تندرج تحت مستقبح فهي مستقبحة و إلا فهي من قسم المباح و قد تنقسم إلى الأحكام الخمسة . اهـ .(3/546)۔
و فی شرح النووي على صحیحِ مسلم: و فيه استحباب طلب الدعاء من الفاضل و دعاء الضيف بتوسعة الرزق و المغفرة و الرحمة و قد جمع صلى الله عليه و سلم في هذا الدعاء خيرات الدنيا و الآخرة والله أعلم(13/226)۔
و فی مرقاة المفاتيح : و عن عبد الله بن بسر قال : نزل رسول الله - صلى الله عليه و سلم - على أبي فقربنا إليه طعاما و رطبة فأكل منهما ثم أتي بتمر فكان يأكله و يلقي النوى بين إصبعيه و يجمع السبابة و الوسطى . و في روايةفجعل يلقى النوى على ظهر إصبعيه السبابة و الوسطى ، ثم أتي بشراب فشربه . فقال أبي : و أخذ بلجام دابته , ادع الله لنا . فقال : اللهم بارك لهم في ما رزقتهم و اغفر لهم و ارحمهم . رواه مسلم .(1/178)-
و فی رد المحتار : (قوله الدعاء أربعة إلخ) هذا مروي عن محمد ابن الحنفية (الی قولہ) (قوله دعاء رغبة) نحو طلب الجنة فيفعل كما مر : أي يبسط يديه نحو السماء ح (قوله و دعاء رهبة) نحو طلب النجاة من النار ح (قوله يجعل كفيه لوجهه) الذي في البحر يجعل ظهر كفيه لوجهه ، و مثله في شرح المنية ، فكلمة ظهر سقطت من قلم الشارح ، و هذا معنى ما ذكره الشافعية من أنه يسن لكل داع رفع بطن يديه للسماء إن دعا بتحصيل شيء ، و ظهرهما إن دعا برفعه( قوله و دعاء تضرع) أي إظهار الخضوع و الذلة لله تعالى من غير طلب جنة و لا خوف من نار نحو : إلهي أنا عبدك البائس الفقير المسكين الحقير ح(1/508)۔