نکاح

لڑکی والوں سے نکاح ختم کرانے پر جرمانہ وصول کرنا

فتوی نمبر :
64636
| تاریخ :
2023-05-19
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی والوں سے نکاح ختم کرانے پر جرمانہ وصول کرنا

اسلام علیکم ! میرےساتھ ایک مسئلہ در پیش آیا جسکی تفصیل یوں ہے کہ میرا نکاح ہونے سے پہلے جب لڑکی والوں سے یعنی لڑکی کے والد ، دادا ، ماموں اور چچا کے ہمراہ نکاح کے حوالے سے یہ بات طے پائی کہ ہم لڑکے والے لڑکی کو 5ہزار روپے حق مہر اور گھر کا سازوسامان ہم خود کریں گے اور سونا بھی دیں گے(پہننےکی غرض سے)جسکی مقدار طے نہیں پائی،اسکے کچھ دن بعد نکاح کا دن آیا (جنوری 2023) تو مولوی صاحب جب نکا ح کا فارم فل کر رہے تھے اور حق مہر لکھنےلگے تو لڑکی کے والد نے کہا کہ 2 تولہ سونا لکھو کیونکہ ہم نے 2 تولہ سونا کی بات طے کی تھی، جس پرمیں اور میرےوالد نے اعتراض کیا اور لڑکی کے ماموں نے بھی کہا کہ 5 ہزار کی بات ہوئی تھی، بہرحال کافی بحث و مباحثہ کے بعد ہم نے 10 ہزار روپے اور گھر کا سازو سامان یعنی جہیز دینے کا کہا اور اس پر نہ چاہتے ہوئے لڑکی کے باپ نے ہامی بھری کیونکہ ہم نکاح کی محفل سےجانے والے تھےاور ہم کوئی زبردستی بھی نہیں کر رہے تھے، طے شدہ بات پریعنی 10 ہزار اور جہیز پر نکاح ہوا، لڑکی سے دستخط بھی ہوئے لڑکی کے والد نے خود جا کردستخط کرائے، اب نکاح کے اگلے دن والدہ جب لڑکی کے ہاں گئی تو لڑکی کی والدہ نے کہا کہ آپ لوگ جہیز وغیرہ نہ لیں ہم اس رشتہ کو نہیں مانتے ہم لڑکی نہیں دیں گے (ہم تو آپ کے بیٹے کو گھر کابڑا بنا رہے تھے اور آپ لوگوں نے ہم سے وعدے کئے تھے کہ ہم سب کچھ کرکے دیں گے )وغیرہ وغیرہ،اسکے بعد کبھی لڑکی کا باپ کہتا ہے کہ 3 ماہ بعد نکاح خود ختم ہوجاتا ہے کیونکہ میری بیٹی عالمہ ہے اور مجھے پتہ ہے دین کااور جرگے سے چھپتا رہتا ہے، ان تمام صورتحال کے بعد سوالات یہ ہیں کہ:
1۔ کیا اسطرح نکاح منسوخ ہوجاتا ہے؟
2۔ کیا کورٹ سے خلع ہوجائےگا؟
3۔ لڑکے والوں کا جو نقصان ہوا (نکاح کی مجلس اور لڑکی کے لئے میک اپ کا سامان اور لباس وغیرہ کی مد میں) وہ کس حد تک کس فیصد تک واپس لینا جائز ہے؟
4۔ لڑکے والوں کی عزت کو نقصان ہوا رشتہ داروں میں گلی محلے میں، اسکے مد میں لڑکی والوں کو سبق سکھانے کے غرض سے کوئی جرمانہ ڈالنا جائز ہے؟
5۔ شریعت کی رو سے اس مسئلہ کا کیا حل ہونا چاہئے۔؟(تفصیلاً رہنمائی کی درخواست ہے)

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو اسمیں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل اور اسکے خاندان والوں نے لڑکی والوں سے تمام معاملات طے کر لئے تھے، تو پھر لڑکی والوں کا مجلسِ نکاح میں طے شدہ معاملات کے علاوہ چیزوں کا مطالبہ کرنا درست نہیں تھا، تاہم ان معاملات کے باوجود بھی اگر سائل کا نکاح باقاعدہ "ایجاب و قبول" کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں ہوا ہو تویہ نکاح منعقد ہو چکا ہے،اب سائل کے سسر کا تین مہینے بعد خود بخود نکاح ختم ہونے کی باتیں کرنا یا بلاوجہ رخصتی میں ٹال مٹول کرنا درست نہیں،بلکہ اسطرح بیٹی کا گھر اجاڑنے کے بجائےاسےچاہیئے کہ رخصتی وغیرہ کی ترتیب بنا کربیٹی کا گھر آباد کرنے کی کوشش کرے ،تاہم اگر سسرال والے رخصتی پر آمادہ نہیں ہوتےتو جب تک طلاق یا خلع وغیرہ نہ دے، تو اسوقت تک یہ نکاح ختم نہیں ہو گا،لیکن اگرتمام تر کوششوں کے باوجود نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو سائل نکاح میں طے شدہ مہر کی معافی کی شرط رکھ کر طلاق دے سکتا ہے، جبکہ نکاح کے وقت جو سامان دیا ہے، اگر وہ لڑکی کو تحفۃً مالک بنا کر دیا ہو تو طلاق کے بعد اسکا مطالبہ، اسی طرح لڑکے والوں کا مذکور نکاح ختم ہونے پر خاندانی وقار مجروح ہوجانے کا بہانہ بنا کر لڑکی والوں پر کسی قسم کا جرمانہ عائد کرنا درست نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،جبکہ خلع بھی دیگرعقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لیے فریقین کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ اگر سائل کی اجازت ورضامندی کے بغیرعدالت نے یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہو گا،اور اس سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح بھی ختم نہ ہوگا، بلکہ بدستور برقرار رہےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فى احكام القرآنللجصاص:قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع(الی قولہ)وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه وي خرجا المال عن ملكهااھ(3/153)
و فی الفتاوى الهندية:إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان۔(1/488)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64636کی تصدیق کریں
0     602
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات