میرے ایک دوست نے مجھے یہ زمہ داری دی ہے کہ اس کے لئے میں فتویٰ حاصل کروں۔
وہ اپنی بیوی کی بہن(سالی) کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہےان کا رشتہ دو اور تین طرفہ بھی ہے۔
ان کی سالی کے شوہر ان ( میرے دوست کے ) ماموں اور کزن (والد کے دور کی چچا زاد بہن کابیٹا اور والدہ کی پھوپھی کا بیٹا) بھی لگتا ہے اور دونوں کی شادی ( میرے دوست اور اس کے کزن) ایک ہی گھر میں دو بہنوں سے ہوئی ہے۔
اب وہ (میرا دوست اور ان کے کزن کی بیٹی جوکہ اب اس کی سالی کی بیٹی بھی لگتی ہے) آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں اور میرا دوست دوسری شادی اس سے کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
مجھے سےمعلوم کیا تو میں نے سورۃ نساء کی آیت نمبر 23 اور 24 کو دیکھا انٹر نیٹ پر اس میں میری ناقص رائے کے مطابق کوئی حرج نہیں ملا۔
لیکن میں اور وہ ماہرین کی رائے لینا چاہتے ہیں تاکہ اگر کسی قسم کا حکم ہو تو اس کی خلاف ورزی نا ہو جائے۔
واضح ہوکہ بیوی کے نکاح میں موجود ہوتے ہوئے اس کی بھانجی یا بھتیجی سے نکاح کرنا شرعا جائز نہیں،لہذا سائل کے دوست کا بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اسکی بھانجی سے نکاح کرنا شرعا درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔