ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا،اس سے اولاد نہیں،اس کو طلاق دیے بغیر اس کی سگی بہن سے نکاح کیا،ماشاء اللہ اس سے اولاد ہوئے،کیا اس کی اولاد سے نکاح درست ہوگا؟
واضح ہوکہ ایک شخص کیلئے بیک وقت ایک نکاح میں دو سگی بہنوں کو جمع کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے،لہذا مذکور شخص کا اپنی پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کو طلاق دیئے بغیر اس کی سگی بہن سے نکاح کرنا ناجائز وحرام عمل تھا،جس پر اسے بصدقِ دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے اپنی دوسری بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا لازم اور ضروری ہے۔
البتہ اس دوسری عورت سے پیدا ہونے والی اولاد سے کسی مرد وعورت کانکاح کرنا شرعاً جائز درست ہے،بشرطیکہ حرمت کا کوئی سبب موجود نہ ہو۔
قال اللہ تعالیٰ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ (الیٰ قوله تعالیٰ)وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23)
وفی الھدایة: ولا يجمع بين أختين نكاحا ولا يملك يمين وطأ " لقوله تعالى: {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ} [النساء: 23] ولقوله عليه الصلاة والسلام " من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجمعن ماءه في رحم أختين (الیٰ قوله) ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى " لأن الجمع بينهما يفضي إلى القطيعة والقرابة المحرمة للنكاح محرمة للقطع اھ(1/187)۔
وفی رد المحتار: تحت(قوله: أي عقدا صحيحا) الأنسب حذف قوله صحيحا كما فعل في البحر والنهر ولذا قال ح: لا ثمرة لهذا القيد فيما إذا تزوجهما في عقد واحد فإنه لا يكون صحيحا قطعا، ولا فيما إذا تزوجهما على التعاقب، وكان نكاح الأولى صحيحا فإن نكاح الثانية والحالة هذه باطل قطعا اھ (3/38)۔