کسی سید کو گھر دلوانا ہے مگر زکوٰۃ کی رقم موجود ہے کیا س رقم کا کوئی حیلہ کیا جاسکتا ہے ؟اگر ہاں تو کیا طریقہ ہوگا؟
واضح ہوکہ سادات کو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم دینا تو درست نہیں،لہذا سید خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کو زکوٰۃ کی رقم سے گھر دلوانا جائز نہیں البتہ اگر زکوٰۃ کی رقم کے بجائے صدقات نافلہ اور ہدایا وغیرہ کے ذریعے ان کے ساتھ تعاون کی جائے تو بلاشبہ جائز اور باعث اجر وثواب ہوگیا،تاہم اگر صدقات
نافلہ سے تعاون کی کوئی صورت نہ ہو تو کسی مستحق زکوۃ شخص
کومذکور سید سے متعلق اسکی ضروریات کی مکمل تفصیل بتاکر زکوۃ کی رقم اسے دیدی جائے پھر قبضہ کے بعد وہ شخص مذکور رقم اگراس سیدکو دیدے تو اس سے زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی اور سید
کی مدد بھی ہوجائے گی۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0