نکاح

سوتیلے والد کی بیٹی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
66348
| تاریخ :
2023-07-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سوتیلے والد کی بیٹی سے نکاح کا حکم

السلام علیکم، میری امی کی دوسری شادی ہے، اور جن سے ہوئی ہے اُن کی بھی یہ دوسری شادی ہے، اُنکی پہلی شادی سے دو بچے ہیں، لیکن ہم سگے بہن بھائی تو نہیں ہیں کیونکہ میری امی کی بھی یہ دوسری شادی ہے، اب انکی بیٹی اور مجھے محبت ہوگئی ہے اور نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے کیا حل ہے؟ اور جائز ہے تو کس طریقے سے جائزہے؟ اور کوئی ایسی چند مثال بھی بتا دیجۓ گا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑکی چونکہ سائل کی نہ حقیقی بہن ہے اور نہ ہی سوتیلی،( یعنی باپ شریک بہن یا ماں شریک بہن نہیں) بلکہ مذکور لڑکی سائل کیلئے نا محرم ہے، لہذا سائل کا مذکور لڑکی کیساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : و أما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال۔اھ (3/ 31)۔
و فی الفتاوىٰ الھندية : (الباب الثالث في بيان المحرمات) و هي تسعة أقسام (القسم الأول المحرمات بالنسب) و هن الأمھات و البنات و الأخوات و أما الأخوات فالأخت لأب و أم و الأخت لأب و الأخت لأم۔اھ (1/ 273)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66348کی تصدیق کریں
0     1531
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات