نکاح

شوہر کے بیرون ملک قومہ میں چلے جانے کی بنا پر اس کی بیوی کا دیور سے نکاح کر لینا

فتوی نمبر :
66454
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شوہر کے بیرون ملک قومہ میں چلے جانے کی بنا پر اس کی بیوی کا دیور سے نکاح کر لینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شادی شدہ عورت جن کا شوہر باہر ملک میں کام کرتے تھے , کسی حادثہ کی وجہ سے وہ قومہ میں چلے گئے اور 9 سال تک کوئی رابطہ نہیں ہوا , 9 سال بعد وہ صحت یاب ہو کر آۓ تو پتہ چلا کہ انکی بیوی نے اپنے دیور سے شادی کرلی ہے, اس خاتون کا پہلا شوہر کہتا ہے کہ اس سے طلاق لو اور وہ خاتون طلاق نہیں لے رہی , اس خاتون کے لۓ کیا حکم ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں - جزاکم اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور عورت نے اگر جان بوجھ کر دوسری جگہ نکاح کیا ہو ، اس طور پر کہ اس کو اپنے سابقہ شوہر کے موجود ہونے کا علم تھا ، لیکن اس کے باوجود اس نے نکاح کر لیا ہو تو ایسی صورت میں یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، لہٰذا اس کے بعد دونوں جتنا عرصہ اکھٹے رہے ہیں ، حرام کاری کے مرتکب ہوئے ہیں، جس پر دونوں کو بصدق دل توبہ و استغفار کرنا اور فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کرنا لازم ہے۔
البتہ اگر مذکور عورت نے دوسری جگہ نکاح اس وجہ سے کیا ہو کہ اس کو اپنے سابقہ شوہر کے لاپتہ ہونے کا یقین ہو گیا تھا اور تلاش و
بسیار کے باو جود اس کا پتہ نہ چل سکا، اور عورت نے عدالت کی طرف رجو ع کر کے فسخِ نکاح کرالیا ہو ، اور عدت پوری ہونے کے بعد اپنے دیور سے نکاح کر لیا ہو تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوا تھا اور دونوں کا اکٹھا رہنا بھی شرعاً درست تھا، لیکن چونکہ اب مذکور عورت کا سابقہ شوہر واپس آ گیا ہے ،اس لئے اس کا اپنے دیور سے نکاح خود بخود باطل ہو گیا ، اور مذکو ر عورت بدستور اپنے سابقہ شوہر کے نکاح میں ہی رہے گی ، البتہ اسکے شوہر کے لئے اس کے ساتھ صحبت (ہمبستری ) کرنا اس وقت تک جائز نہ ہوگا،جب تک اپنے دیور سے علیحدگی کے بعد عدت پوری نہ کرلے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد : أما نكاح منكوحة الغير و معتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال : فعلى هذا يفرق بين فاسده و باطله في العدة و لهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية و غيرها اهـ.(3/132)-
و فی المبسوط للسرخسی : و قد صح رجوعه عنه إلى قول علي - رضي الله عنه -، فإنه كان يقول ترد إلى زوجها الأول و يفرق بينها و بين الآخر ، و لها المهر بما استحل من فرجها ، و لا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر و بهذا كان يأخذ إبراهيم - رحمه الله - فيقول : قول علي - رضي الله عنه - أحب إلي من قول عمر - رضي الله عنه - و به نأخذ أيضا؛(الی قولہ ) و هو بدل بضعها فيكون مملوكا لها دون زوجها كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة ، فعرفنا أن الصحيح أنها زوجة الأول و لكن لا يقربها لكونها معتدة لغيره كالمنكوحة إذا وطئت بالشبهة اھ(11/37)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66454کی تصدیق کریں
0     857
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات