کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام !اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن نے گھر والوں کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا ہے ،مجلسِ نکاح میں لڑکا ،لڑکی ،وکیل اور قاضی صاحب موجود تھے ، مذکور وکیل نکاح کا وکیل نہیں تھا، بلکہ وہ کورٹ وغیرہ کا وکیل تھا، اور ایجاب و قبول قاضی کے کہنے پر کیا گیا، اب آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست ہے، یا نہیں؟ اور مذکور نکاح میں گواہوں کی تعداد پوری ہے یا نہیں ؟ نکاح شرعی طور پر منعقد ہوا یا نہیں ؟ شرعی طور پر رہنمائی فرما کر مشکور ہوں ۔
نوٹ :- لڑکا اور لڑکی ایک ہی خاندان (مغل) کے ہیں، جبکہ لڑکا حافظِ قرآن بھی ہے،اور لڑکی بھی نماز وغیرہ پڑھتی ہے ، اور مالی اعتبار سے بھی دونوں تقریباً برابر ہیں،نکاح کے وقت حقِ مہر بھی متعین ہوا تھا ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور وکیل اور قاضی صاحب نکاح کی مجلس میں موجود تھے، اور مذکور نکاح واقعۃً باقاعدہ ایجاب و قبول اور مہر کے تقرر کے ساتھ کفؤ میں ہوا ہو تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، مگر جوان لڑکے اور لڑکی کا والدین کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کرنا انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت عمل ہے ، شریف خاندان میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے، اور عموماً اس طرح کا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہونیکی وجہ سے کامیاب نہیں ہوتا ، بلکہ نوبت طلاق تک آ جاتی ہے، اس لئے اب سائل کی بہن کو چاہئیے کہ کسی طرح اپنے والدین اور اہلِ خانہ کو راضی کر کے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے ۔
کما فی الدر المختار:ولاية ندب على المكلفة ولو بكرا الخ، قال ابن عابدین:(قوله ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر وللخروج من خلاف الشافعي في البكر، وهذه في الحقيقة ولاية وكالة اھ(3/55)۔
وفیہ ایضاً :(بعدم جوازه أصلا)(ويفتى) في غير الكفء وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ اھ(3/57)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ:(وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ(ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان الخ(ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع اھ(1/268)۔