ایک نکاح ہوا دونوں خاندانوں کی موجودگی میں اور لڑکی کو پہلے سے معلوم تھا رشتے کے بارے میں ،نکاح والے دن یہ معاملہ ہوا کہ نکاح کےلئے رشہ دار اکھٹے ہوئے لڑکی کے والد بھی موجود تھے قاضی صاحب بھی آگئے اور لڑکی سے اجازت لینے کےلئے لڑکی کا نانا گئے اور لڑکی کا انگوٹھا نکاح نامے پر لگوایا جبکہ اس سے نکاح کی اجازت نہ لی اور آگئے پھر قاضی صاحب نے لڑکے کو فلان بنت فلاں کا نام لے کر نکاح قبول کروایا یوں نکاح مکمل کیا گیا اور رخصتی ہو گئی تو کیا یہ نکاح ہو گیا؟
لڑکی کے وکیل نے لاعلمی کی وجہ سے اجازت نہیں لی۔اگر وہ اجازت لیتا تو یقیناً اسے ھاں میں جواب ملتانکاح سے دو سال بعد رخصتی ہوئی اور اس دوران لڑکی نے کبھی رشتے پہ ناراضگی ظاہر نہیں کی ۔
شادی کے بعد بھی لڑکی خوش ہے۔
جب لڑکی سے نکاح نامہ پر انگوٹھا لگوا لیاگیاتھا، اور اس کے بعد نکاح ہوکر وہ رخصت ہوکر چلی گئی ، تویہ نکاح شرعا بھی درست منعقد ہوچکاہے،چنانچہ لڑکے لڑکی کا میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز اور درست ہے لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔