میرے پاس گیارہ مہینے سے نو تولہ سونا ہے ، اور اب ایک ماہ بعد میں اس کی زکوۃ ادا کروں گی ، میرے شوہر نے کچھ قرض لیاہے، تو کیا میں اپنا سونا فروخت کرکے اس کا قرض ادا کرسکتی ہوں ؟
سائلہ اگر اپنی مرضی سے یہ سونا فروخت کرکے اپنے شوہر کا قرض ادا کرنا چاہے ، تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے،لہذا اگر سائلہ اس سونے کو قمری سال پورا ہونے سے قبل فروخت کرکے شوہر کو قرض یا واپسی کی نیت سے دیے بغیر محض بطورِ تبرع و احسان کے ، اپنے شوہر کا قرض ادا کردے، اور سال پورا ہونے پر اس کے پاس بقدرِ نصاب کچھ بھی باقی نہ رہے، تو صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے ، اس پر ادائیگئی زکوۃ بھی لازم نہ ہوگی ،جبکہ زکوۃ کی مد میں ،شوہر کا ادا کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (و شرط كمال النصاب) و لو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد و في الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول اھ (302/2، ط: دار الفکر)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0