اسلام علیکم ! ایک مرد اورعورت نکاح کرنا چاہتے ہیں ، مرد دو آدمیوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے اس سے نکاح کیا ، کیا نکاح ہو جائے گا؟
واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کیلئے عاقدین (میاں بیوی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کا مجلسِ نکاح میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجابُ و قبول کرنا شرعاً ضروری ہے ،بصورتِ دیگر نکاح درست نہیں ہوگا ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگرلڑکے نے مذکور الفاظ " میں نے اس سے نکاح کیا " کہے ہوں ،لیکن لڑکی یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے قبول نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا ،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھ کر ای میل کر دیں،اس پر غوروفکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا،البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ لڑکا لڑکی کا والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود نکاح کرنا بڑی بے شرمی اور بڑی جسارت ہے اور شریف خاندانوں میں اس طرح نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور عموماً اس طرح کا نکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے ،اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور اگر لڑکا لڑکی ہم پلہ نہ ہو ں تو بعض علماء کرام کے ہاں تو یہ نکاح سرے سے منعقد بھی نہ ہوگا ،اس لئے اس طرح نکاح سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (و شرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (3/21)۔
و فیھا ایضاً: (و يفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) اھ (3/57)۔
و فی البحر الرائق: (قوله: و ينعقد بإيجاب، و قبول وضعا للمضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح أي ذلك العقد الخاص ينعقد بالإيجاب والقبول حتى يتم حقيقة في الوجود و الانعقاد هو ارتباط أحد الكلامين بالآخر على وجه يسمى باعتباره عقدا شرعا اھ (3/87)۔