نکاح

بچوں کا شادی کے معاملے میں اپنی پسند پر چلنا

فتوی نمبر :
68215
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بچوں کا شادی کے معاملے میں اپنی پسند پر چلنا

میں نے ایک شیعہ لڑکے سے پیار کیا ، پہلے میرے ماں باپ کی شرط تھی کہ وہ دیوبندی ہوجائے گا ، تو شادی کر دیں گے ، اب پانچ سال بعد جب لڑکا دیوبندی ہونا چاہ رہا ہے ،تو میرے والد کہہ رہے ہیں کہ شادی کے بارے میں اگر کچھ کہا تو میں خود کو مارلوں گا، وہ مجھے میری پسند کی شادی نہیں کرنے دے رہے اور اپنے انکار کو شریعت کے مطابق کہہ رہے ہیں، براہِ کرم اسلامی آئین کے مطابق میرے والد کو کیا کرنا چاہیئے ؟ وعدے، محبت کی شادی اور بچوں کی پسند کی شادی کے بارے میں فتویٰ جاری کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نامحرم مرد کے ساتھ نکاح سے قبل دوستی کرنا ، بلاضرورت بات چیت ہنسی مذاق اور ملنا ملانا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں ،لہذا سائلہ کا مذکور نامحرم مرد سے نکاح سے قبل تعلقات قائم کرنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے ،لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے حرام کاموں سے مکمل اجتناب کرے ۔
جبکہ کسی شخص کا صرف نکاح کی غرض سے اپنا مذہب تبدیل کرنا ایسا عمل ہے جوکہ اکثر و بیشتر مفاسد سے خالی نہیں ہوتا اور مشاہدات سے یہ بات ثابت ہے کہ عموماً شادی کے کچھ عرصہ بعد وہ شخص اپنے مذہب پر واپس لوٹ جاتا ہے یا پھر ساتھ اپنی بیوی کو بھی دوسرے مذہب کی طرف لے جاتا ہے ،جس کی وجہ سے آنے والی نسلوں کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے اور عموماً ایسے رشتے پائیدار بھی نہیں ہوتے ، لہذا اگر سائلہ کا والد سائلہ کا مذکور لڑکے سے نکاح کرانے سے انکار کر رہا ہو , تو سائلہ کو اپنے والد کے فیصلہ پر راضی ہونا چاہیئے ،بلا وجہ والد کو تنگ کرنا اور اسی لڑکے سے نکاح کرنے پر بضد ہونا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ نکاح کے معاملہ میں والدین کی رضا مندی کا پورا خیال رکھے اور جس جگہ وہ مناسب اور بہتر سمجھیں تو سائلہ کو ان پر اعتماد کرتے ہوئے اس رشتہ پر دل سے راضی رہنا چاہیئے۔
جبکہ والدین کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیٹی کا کسی مناسب اور اچھی جگہ رشتہ کرانے سے قبل اس کی رضا مندی معلوم کرلیں،تاکہ اس کی بھی دلجوئی ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ : وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَ لَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَ لَوْ أَعْجَبَكُمْ (البقرۃ: 221)-
و فی مشکوٰ ۃ المصابیح : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «رِضِيَ الربِّ فِي رِضى الْوَالِدِ وَ سُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (3/1379)۔
و فی رد المحتار : لاشك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق ، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي ، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ، و لكن لو تاب تقبل توبته اھ (4/237)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68215کی تصدیق کریں
0     594
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات