نکاح

چاچا کی رضامندی کے بغیر ماں کے لئے بچی کا رشتہ طے کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
68534
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

چاچا کی رضامندی کے بغیر ماں کے لئے بچی کا رشتہ طے کرنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! مفتی صاحب گزارش ہے کہ آج سے 10 سال پہلے میں ایک کیس کی وجہ سے جیل چلا گیا ، میری اور میرے بھائی کی شادی ایک ہی گھر میں ہوئی تھی اور میری بہن کی بھی شادی اسی گھر میں ہوئی تھی میرے جیل جانے کے بعد میرا بھائی اللہ کو پیارا ہو گیا ، جس کو اللہ تعالی نے ایک بیٹی عطا کی تھی ، میرے جیل جانے کے بعد میری بیوی میکے چلی گئی اور میرے مرحوم بھائی کی بیوی بھی میکے چلی گئی اور میری بہن کو اس کے سسرال والوں نے گھر بھیج دیا ، کچھ عرصے کے بعد میری بہن کے شوہر نے دوسری شادی کر لی تقریبا 10 سال بعد جب مجھے رہائی ہوئی تو میرے والد بھائی اور بہن نے مجھے دوسری شادی کرنے کا کہا اور بیوی بچوں کو واپس نہ لانے کا کہا اور کہا کہ ہم تینوں (میری اور مرحوم بھائی اور بہن) کی زمین میرے نام لگاتے ہیں اگر آپ ایسا کریں تو،مجھے چونکہ اپنی بیوی بچوں سے پیار تھا ، لہذا میں نے ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور ان کو ناراض کر دیا ، میں نے کہا کہ تم مجھے ڈیڑھ سو ایکڑ میں سے ایک ایکڑ بھی نہ دو میں اپنی بیوی بچوں کو لے کر ہی آؤں گا ، اپنے بیوی بچوں کو لانے کے بعد میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کا رشتہ لینا چاہتا ہوں ، اس کے لئے وہ اپنے میکے جا کر اپنی بہن سے میرے بیٹے کارشتہ مانگے ، رشتہ مانگنے پر اس کی بہن (میرے مرحوم بھائی کی بیوہ) نے حامی بھر لی ، یہاں تک کہ اس نے قرآن اٹھا کر قسم کھائی کے وہ کہ وہ میرے مرحوم بھائی کی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے کو دے گی ، جس کی ویڈیو میرے پاس موجود ہے ،لیکن اب تین سال گزرنے کے بعد وہ اپنے وعدے اور قرآن سے پھر رہی ہے اور میری بھتیجی کا رشتہ اس کے ماموں کے بیٹے کو دے رہی ہے ، مفتی صاحب جس بیوی کی خاطر میں نے اپنے والد اور بہن بھائی کو ناراض کیا وہ بیوی بھی آج مجھے چھوڑ کر اپنی بہن کے پاس جا بیٹھی ہے اور اس کی ہم خیال بن گئی ہے ، مفتی صاحب قرآن پر وعدہ دے کر پھر جانے کی کیا سزا ہے؟ اگر میں اپنے حق کے لئے ان کے ساتھ سختی کروں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوہ بھابھی کا قرآن مجید کا حلف اٹھا کر اپنی بیٹی سائل کے بیٹے کے نکاح میں دینے کا وعدہ کرنے کے بعد اب بلاکسی عذر کے اپنے وعدے سے پھر جانا ، وعدۂ خلافی پر مبنی عمل ہے جس کی وجہ سے وہ عند اللہ گناہ گار ہوگی اور اس کے ذمہ قسم کا کفارہ بھی لازم ہوگا ، اس لئے سائل کی بیوہ بھابھی کو چاہیئے کہ اگر کوئی واقعی عذر نہ ہو تو اپنی بیٹی کا رشتہ کسی دوسری جگہ طے کرنے کے بجائے حسبِ وعدہ سائل کے بیٹے کے ساتھ اس کا رشتہ کرائے ، تاہم اگر وہ اپنے وعدے سے پھر جائے اور ابھی تک سائل کے بیٹے کا سائل کی مذکور بھتیجی کے ساتھ نکاح نہ ہوا ہو تو سائل کو اپنی بیوی ، بیوہ بھابھی یا اپنی بھتیجی پر سختی کرکے انہیں اس رشتے پر زبر دستی مجبور کرنے کا حق حاصل نہیں ، تاہم جس لڑکے کے ساتھ سائل کی بھتیجی کا رشتہ طے کیا جا رہا ہے ، وہ لڑکا اگر حسب نسب ، مالداری اور دینداری وغیرہ میں سائل کی بھتیجی کا کفو اور ہم پلہ نہ ہو اور سائل کی مذکور بھتیجی کا دادا ، والد اور بھائیوں میں سےبھی کوئی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو اپنی بھتیجی کا ولی اور سرپرست ہونے کی حیثیت سے اس نکاح پر معترض ہونے اور کسی مناسب جگہ رشتہ طے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا البتہ اگر مذکور لڑکا سائل کی بھتیجی کا کفو اور ہم پلہ ہو اور سائل کی بھتیجی عاقلہ بالغہ ہو اور وہ اس رشتے پر رضامند ہوں تو پھر سائل کو اس رشتےمیں کسی قسم کی رکاوٹ بننے کا اختیار حاصل نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) و الأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه و ما لا فلا(و له) أي للولي (إذا كان عصبة) و لو غير محرم كابن عم في الأصح خانية و خرج ذوو الأرحام و الأم و القاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي و يتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد و ينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (و يفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) و هو المختار للفتوى (لفساد الزمان) اھ (3/55)۔
و فی الفتاویٰ الھندیة : و قال : محمد بن مقاتل الرازي لو حلف بالقرآن قال : يكون يمينا ، و به أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات اھ (2/53)۔
و فیہ ایضاً : (و منها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا ، كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/259) ۔
و فی شرح الاشباہ و النظائر : الْخُلْفُ فِي الْوَعْدِ حَرَامٌ (الیٰ قولہ) «إذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، وَ مِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ فَلَمْ يَفِ فَلَا إثْمَ عَلَيْهِ» وَ قِيلَ : عَلَيْهِ فِيهِ بَحْثٌ فَإِنْ أَمْرَ «أَوْفُوا بِالْعُقُودِ» مُطْلَقٌ فَيُحْمَلُ عَدَمُ الْإِثْمِ فِي الْحَدِيثِ عَلَى مَا إذَا مَنَعَ مَانِعٌ مِنْ الْوَفَاءِ ، وَ فِي الْقُنْيَةِ وَ عَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ لَا يَأْثَمُ ، قَالَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ فَإِنْ قِيلَ : مَا وَجْهُ التَّوْفِيقِ بَيْنَ هَذَيْنِ الْقَوْلَيْنِ فَإِنَّ الْحَرَامَ يَأْثَمُ بِفِعْلِهِ وَ قَدْ صَرَّحَ فِي الْقُنْيَةِ بِنَفْيِ الْإِثْمِ، قُلْتُ : يُحْمَلُ الْأَوَّلُ عَلَى مَا إذَا وَعَدَ وَ فِي نِيَّتِهِ الْخُلْفُ فَيَحْرُمُ ؛ لِأَنَّهُ مِنْ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَ الثَّانِي عَلَى مَا إذَا نَوَى الْوَفَاءَ وَ عَرَضَ مَانِعٌ اھ (3/236)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68534کی تصدیق کریں
0     498
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات