ترجمہ:میرا ایک بھائی ہے جوغریب ہے،اور گاؤں کے علاقے میں رہتا ہے،اور مدرسے میں کام کرتا ہے،اور اس کی تنخواہ(25000)ماہانہ ہے،اس کے پانچ بچے ہے ،تو کیا میں اس کو زکوٰۃ کی رقم سے مدد کرسکتا ہوں ؟اسی طرح میری ایک بہن ہے،وہ بھی غریب ہے تو کیا میں اس کی بھی زکوٰۃ کے رقم کے ذریعے مدد کرسکتا ہوں؟
سائل کے بہن بھائی اگر واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہوں ،یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا،یاساڑھے باو ن تولہ چاندی،یاساڑھے باو ن تولہ چاندی کے مالیت کے بقدر نقدی،مال تجارت،ضرورت سے زائد سامان یا ان سب کا مجموعہ بقدر نصاب نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو ان کو زکوٰۃ کا دینا بلاشبہ جائز،بلکہ دوہرے اجر کا باعث ہے۔
کما فی ردالمحتار: و الأفضل إخوته و أخواته ثم أولادهم ثم أعمامه و عماته ثم أخواله و خالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم اهـ (2/354)۔
و فی الھندیۃ: و الأفضل في الزكاة و الفطر و النذر الصرف أولا إلى الإخوة و الأخوات ثم إلى أولادهم (الی قولہ) ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج اھ(1/190)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0