سوال:
کیا زکوة کی رقم سے یتیم خانے کی تعمیر کی جا سکتی ہے ؟ اگر نہیں تو کیا تملیک کے ذریعہ زکوة کی رقم یتیم خانہ کی تعمیر و ترقی میں استعمال کر سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے تملیک(کسی مستحق شخص زکوٰۃ کا مالک بنانا) شرط ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں یتیم خانہ کی تعمیر پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے میں چونکہ تملیک نہیں پائی جاتی،اس لئے اس پر براہ راست زکوٰۃ کی رقم لگانا شرعاً درست نہیں ،اور نہ ہی اس سے زکوٰۃ ادا ہوگی،البتہ تملیک شرعی کے بعد زکوٰۃ کی رقم کو یتیم خانہ کی تعمیر ودیگر ضروریات میں لگانا شرعاً درست ہے۔
کما فی الھندیۃ: ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين اھ(1/188)۔
وفی الدرالمختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر اھ(2/344)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0