میں ” سٹو ڈنٹس ویلفیئر ٹرسٹ کے" نام سے ایک فلاحی ادارہ چلا رہاہوں ،اس ادارے سے میں اسکولوں اور د ینی مدارس کے غریب بچوں کو سٹیشنری اور یونیفارم مہیا کرتا ہوں ، اس ادارے کیلئے جو لوگ چندہ اکھٹا کرتے ہیں، کیا اس جمع شدہ چندے سے میں ان لوگوں کو تنخواہ ،حصہ یا فیصد دے سکتا ہوں؟ برائے مہربانی اس حوالے سے فتو ی درکار ہے۔
سائل کیلئے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم سے تملیکِ شرعی کے بغیر چندہ کرنے والے افراد کو تنخواہیں دینا جائز نہیں ،البتہ اگر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ کوئی رقم ہو اور چندہ کرنے والے افراد کیلئے یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر اجرت طے کرکے دی جائے ، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
کما فی الدرالمختار : و لو دفعها المعلم لخليفته إن كان بحيث يعمل له لو لم يعطه وإلا لا اھ
و فی ردالمحتار : (قوله : و إلا لا) أي ؛ لأن المدفوع يكون بمنزلة العوض اھ(2/356)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0