السلام علیکم ! مفتی صاحب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ نکاح کے پروگرام میں یہ شرائط سسر کی جانب سے رکھنا کیسا ہے ؟
(1)دوسری شادی نہیں کرسکتے ۔
(2)اگر بالفرض دوسری شادی کرلی تو لڑکی کے نام پر مکان کرلوگے۔
(3)اگر دوسری شادی کرلی تو سسرال والوں کو بدل دوگے (لڑکی کا )۔
شریعت کی رو سے یہ شرائط دوسری شادی پر محمول کرنا کیسا ہے ؟رنمائی فرمائیں ۔
سسر کیلئے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر اپنے داماد پر دوسری شادی نہ کرنے کی شرط عائد کرنا ،اور دوسری شادی کی صورت میں بیٹی کے نام مکان کرانے یا اس کے عوض لڑکی (بدل) کے مطالبہ کرنے کی شرط لگانا تو درست نہیں ،اور یہ شرائط شرعا معتبر بھی نہ ہونگے ،البتہ بیٹی کے شادی کے موقع پر ابتداءً حقِ مہر کے طور پر اس کے نام گھر کرانے وغیرہ جیسے دیگر مناسب شرائط رکھی جا سکتی ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَ ثُلَاثَ وَ رُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا( النساء،ایۃ:3)۔
و فی عمدۃ القاری: وَ الثَّانِي : أَن يُؤمر الزَّوْج بتقوى الله وَ الْوَفَاء بِالشُّرُوطِ وَ لَا يحكم عَلَيْهِ بذلك حكما، فَإِن أَبى إلاَّ الْخُرُوج لَهَا كَانَ أَحَق النَّاس بأَهْله إِلَيْهِ ذهب عَطاء وَ الشعْبِيّ وَ سَعِيد بن الْمسيب وَ النَّخَعِيّ وَ الْحسن وَ ابْن سِيرِين وَرَبِيعَة وَ أَبُو الزِّنَاد وَ قَتَادَة، وَ هُوَ قَول مَالك وَ أبي حنيفَة وَ اللَّيْث وَ الثَّوْري وَ الشَّافِعِيّ، وَ هُوَ قَول مَالك وَأبي حنيفَة وَ اللَّيْث وَ الثَّوْري وَ الشَّافِعِيّ، وَ قَالَ عَطاء: إِذا شرطت أَنَّك لَا تنْكح وَ لَا تتسري وَ لَا تذْهب وَلَا تخرج بهَا، بهَا بَطل الشَّرْط إِذا نَكَحَهَا .اھ (20/140)۔