نکاح

مشترکہ گھرمیں اپناکچن علیحدہ کرنا

فتوی نمبر :
69173
| تاریخ :
2023-11-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مشترکہ گھرمیں اپناکچن علیحدہ کرنا

السلام وعلیکم،
جناب ہم 2 شادی شدہ بھائی 1 مکان میں رہتے ہیں مکان والدہ کے نام پر ہے، بھائی کی عمر 47 سال ہے جب کے میری عمر 41 سال۔ بھائی کی نوکری کا اکثر مسئلہ رہنے لگ گیا ہے پچھلے 1 سال سے کبھی لگتی ہے کبھی نہیں تو وہ آمدنی کے لحاظ سے کم کماتا ہے اسکی 2 بیٹیاں بھی ہیں، جب یہ مسئلہ ہوا تو انکی بیگم نے اسکول میں جاب کرلی، ہمارا کچن 1 ہے، اور باری باری ہم کھانا بناتے ہے، جب کے یوٹیلیٹیز کا سارا خرچ میرے ذمے ہے، پہلے تو گروسری بھائی لے اتا تھا، تقریباً 2 سال سے یہ سیٹپ چل رہا ہے کے سبزی گوشت وغیرہ جو ہمیں پکانا ہو تو ہم اپنی پیسو کی لیتے ہیں باقی آئل دالیں مصالحہ گھر پر جو ہوا وہی ڈال دیا ورنہ باہر سے لایا۔ میری جاب الحمدلللہ اچھی ھے کے یہ خرچ کر کے پوری ہوجاتی ہے۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ اب میں کچن الگ کرنا چاہتا ہوں کیوں کے بیگم دن کہ ہر روز کام کرتی ہے اور باری پر بھی پورا کرتی ہے اور بھابھی صرف اپنی باری کا کرتی ہے کیوں کہ وہ جاب پر ہوتی ہے، بھائی بھی کھانا کھاتے ہر ٹائم دال اور سبزیوں پکنے پر منہ چراتے ہیں اور الفاظ استعمال کرتے ہیں جب انکی بیگم کی باری ہوتی ہے تو خاموشی سے کھاتے ہیں، جس پر میری اور میری بیگم کی دل آزاری ہوتی ہے کے اپنی بیگم کے ہاتھ کا ہی کھا لیں خوش ہو کر، جب کے میری بیگم کے ہاتھ کا میری امی بھی کّھاتی ہیں اور میرا بیٹا بھی، اُن کو نمک مرچ کبھی زیادہ کم نہیں لگتا،
میں چاہتا ہوں کہ پر سکون ہو کے کھانا کھاؤں اور دل چاہتا ہے کے بھائی سے بول دوں کے اپنا کچن الگ کردو، مگر اسکی اتنی جاب نہیں ہے تو دل دوسری طرف یہ بھی نہیں مانتا کہیں ایسا نہ ہو اللہ پاک ناراض ہو جائیں، جب کچن الگ کرونگا تو یوٹیلیٹیز پھر بھی مجھے ادا کرنے ہونگے اور میری بیگم روز ہے کھانا بنائیگی اور بھابھی شاید میری امی سے ہی بنوائیں، دونوں طرف سے میں پھنس رہا ہوں اس لیے رہنمائی چاہتا ہوں اسلام اور شرعی علم کی نسبت سے۔
جزاک للہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگرعدم موافقت کی بناءپر سائل کی بیوی مشترکہ طور پر پکانا اورکھانا نہیں چاہتی توسائل کے ذمہ اسے الگ پکانے کی سہولت فراہم کرنا لازم اورضروری ہےتاہم اس مسئلہ کواس طرح خوش اسلوبی سے حل کرناکہ والدہ اوربڑےبھائی کی دل آزاری کاباعث نہ بنے بھی نہایت ضروری ہے لہذااگرسائل اپنےبڑے بھائی اوروالدہ کےساتھ احترام کے رشتے کوملحوظ رکھتے ہوئے ان کواعتمادمیں لیکراپناکھاناالگ کرلےتوایساکرنے سے وہ شرعاگناہ گارنہ ہوگاالبتہ بقول ِسائل اس کےبھائی مالی لحاظ سےمستحکم نہیں ہے اوروالدہ بھی اپنی ضروریات زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہیں توسائل کوچاہئے کہ بقدراستطاعت ان کے ساتھ تعاون جاری رکھے اوران کی طرف سے خلاف طبع امورپیش آنے پرصبرکرلےتویہ عنداللہ بھی اجروثواب کاباعث ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالی فی القرآن الکریم :وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا(سورۃ نساءآیة19)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی تحت ھذہ الأیة: فأمر الله سبحانه ‌بحسن ‌صحبة ‌النساء إذا عقدوا عليهن لتكون أدمة «2» ما بينهم وصحبتهم على الكمال، فإنه أهدأ للنفس وأهنأ للعيش. وهذا واجب على الزوج ولا يلزمه في القضاء (5/97ط۔دارالکتب ،قاھرۃ)
وفی الصحیح لمسلم :عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت. واستوصوا بالنساء. ‌فإن ‌المرأة ‌خلقت ‌من ‌ضلع. وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه. إن ذهبت تقيمه كسرته. وإن تركته لم يزل أعوج. استوصوا بالنساء خيرا(2/1091)
وفی الدرالمختارمع حاشیةابن عابدین:(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها، ونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة
قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا
(قوله وفي البحر عن الخانية إلخ)....قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار(کتاب الطلاق، باب النفقه 2/599)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69173کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات