السلام علیکم ! مفتی صاحب! میرا ایک سوال ہے کہ اگر ایک بالغ لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے سے کورٹ میرج اور نکاح کرتی ہے، تو نکاح کے 10دن بعداس لڑکی کے گھروالے اسے واپس لے آتے ہیں اور لڑکا اس لڑکی کو طلاق دیتا ہے،تو ایسی صورت میں اس لڑکے کی طلاق کے 20 دن بعد دوبارہ کسی اور لڑکے سے نکاح ہوسکتا ہے؟ اگر نکاح ہوجائے تو کیا وہ جائز ہوگا یا نہیں ؟ مہربانی فرماکراسکی راہنمائی فرمائیں ۔
اولیاء کی رضامندی کے بغیر بالغ لڑکے و لڑکی کا چھپ کر نکاح کرنا انتہائی نامناسب فعل ہے اور شریف خاندانوں میں اس فعل کو انتہائی قبیح سمجھا جاتا ہے اور ایسا نکاح اگر غیر کفؤ میں ہو ، تو سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ، لہذا مذکور لڑکا اور لڑکی اگر باہم کفؤ ہوں اور یہ نکاح باقاعدہ دوگواہان کی موجودگی میں کیاگیا ہو توشرعاً یہ نکاح منعقد ہو چکا تھا ، چنانچہ اس نکاح کے بعد جب میاں بیوی ایک ساتھ رہتے رہے ، تو ان کے درمیان خلوت صحیحہ کے تحقق کے بعد طلاق ہوجانے کی صورت میں مذکور لڑکی پر عدت گزارنا لازم ہے ، دورانِ عدت لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہ ہوگا ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ ایام عدت گزرنے کے بعد لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی .
کما فی الدرالمختار : ( فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ) رضا ( ولی ) و لاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ و ما لا فلا ( ولہ )ای للولی (اذاکان عصبۃ و لو غیر محرم ) ( الی قولہ ) (الاعتراض فی غیر الکفء ) فیفسخہ القاضی و یتجدد بتجدد النکاح الخ ( ج3 ص55۔56 کتاب النکاح باب الولی ط : ایچ ایم سعید )۔
وفی رد المحتار تحت ( قولہ : فلاعدۃ فی الباطل ) (الی قولہ ) اما نکاح منکوحۃ الغیر و معتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھاللغیر لانہ لم یقل بجوازہ فلم ینعقد اصلا ، فعلی ھذا یفرق بین فاسدہ و باطلہ فی العدۃ ،و لھذا یجب الحد مع العلم بالحرمۃ لکونھا زنا الخ ( ج3 ص516 کتاب الطلاق باب العدۃ ط : ایچ ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ : و لو تزوج بمنکوحۃ الغیر و ھو لایعلم انھا منکوحۃ الغیر فوطئھا تجب العدۃ و ان کان یعلم انھا منکوحۃ الغیر لاتجب حتی لایحرم علی الزوج وطئھا الخ ( ج1 ص280 کتاب الطلاق الباب الثالث فی بیان المحرمات ط : مکتبہ ماجدیہ )۔