السلام علیکم !1 :سوال یہ ہے کہ دو سگی بہنں ہیں ،ان کی الگ الگ جگہ پرشادی ہوئی ہے ،ایک کا شوہر اپنی سالی سے زنا کررہا ہے ان کے چھ بچے ہیں،شوہر کوجب پتہ چلا کہ میری بیوی اس کے ساتھ زناکررہی ہے ، توبیوی کوبچے دیکر گھر سے نکال دیا،اب شوہر الگ رہتا ہے اور بیوی الگ ،جبکہ بیوی اپنے جوان بچوں کی شادی اپنے بہنوئی کے بچوں کے ساتھ کروارہی ہے، کیا ہمارے دین اسکی اجازت دیتا ہے ؟
2:ولی کے موجودگی میں یہ عورت ان بچوں کے نکاح کرواسکتی ہے ؟
3: وہ باپ جسکا نام بچوں کی پیدائش میں لکھا گیا ہے ، کیاوہ کوئی قانونی کاروائی کرسکتاہے ؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ،تو مذکور عورت کا شادی ہونے کے باوجود اپنے بہنوئی کیساتھ ناجائز تعلقات رکھنا شرعاً ناجائز وحرام اور سگین جرم تھا ، جس کیوجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ،جس پرانہیں بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اس قبیح عمل سے اجتناب لازم ہے ۔
جبکہ مذکور خاتون کے شوہر نے اگرچہ بیوی کیساتھ اپنے بچوں کو بھی گھر سے نکال دیا ہے ، مگر چونکہ شرعاً ان بچوں کا نسب انکے والد سے ثابت ہے اور باپ ہونے کی حیثیت سے مذکور خاتون کے شوہر کوہی اپنے بچوں پرولایت کا حق حاصل ہوگا، چنانچہ والد کی موجودگی میں والد کی اجازت کے بغیر مذکور خاتون کو اپنے بچوں کے نکاح کرانے کا شرعاً حق حاصل نہ ہوگا۔
کما فی الدرالمختار : فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته و لو تحولت الولاية إليه لم يجز إلا بإجازته بعد التحول قهستاني و ظهيرية اھ (56/3) واللہ اعلم