میں نے ایک کنواری لڑکی جو کہ (BPS ) 17 میں نرس ہے ، اور مجھ سےبہت پیار کرتی ہے ، دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا ہوا ہے ، اور کبھی غلط حرام ناجائز اور زنا نہیں کیا ، بلکہ نکاح کر کے پاکی اور ایمان پر قائم ہے ، اب لڑکی میرے پاس آنا چا ہتی ہے رخصت ہوکر ، میں پہلے سے شادی شدہ تھا ، اور پہلے دن سے میری دوسری بیوی جوکہ نرس ہے کو پتہ تھا ، اور اس سے کوئی اعتراض بھی نہیں تھاشادی سے ، اسلئے اس نے مجھ سے پوری مرضی اور خوشی سے نکاح کیا ، مگر اسکی فیملی کو میرے پہلے سے شادی شدہ ہونے کا پتہ نہیں ہے ، صرف میری بیوی کو پتہ ہے کہ وہ میری دوسری بیوی ہے ، لڑکی کے گھر والوں کوہمارے نکاح کا بھی پتہ نہیں ہے ، میں نے رشتہ بیجھا ہے مگر اسکا بھائی انکاری ہے اور انکار کر رہا ہے ، جب کہ کفو کے معاملے میں ، میں لڑکی سے زیادہ پڑھا لکھا خوبصورت اور سیاست میں بھی بہت مشہور ہو ، اور ان سے زیادہ رہنے کا طریقہ اور پڑی لکھی فیملی اور اچھا ہوں ، مگر پھر بھی لڑکی کا بڑا بھائی ہے ، کیونکہ لڑکی کا ماں باپ وفات پاگئے ہے ، میری دوسری بیوی ہر طرف سے اپنے بھائی بھابھی سے تنگ ہے۔ اور میرے پاس میری بیوی بن کر میرے پاس آنا چاہتی ہے ، اور میرا ایک 10مرلہ کا خوبصورت الگ گھر بھی ہے ، جس میں آنا چاہتی ہے ، مگر بھائی یہ رشتہ قبول نہیں کررہا، اور برداشت کرنے میں مخالفت کررہا ہے کسی شر عی معاملے کا ، ہم دونوں صاحب حسب اور کام والے ہے ، دونوں میاں بیوی لڑکی کی ماں بھی میرے رشتے سے مر نے سے پہلے راضی تھی، مگر انکے باپ بھائی رکا وٹ ڈال رہا ہے ، شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے ہمارے ایک ہونے کیلئے، کیو نکہ لڑکی 44سال کی ہو گئی ہے اور اسکی شادی نہیں کررہا بھائی مجھ سے ولی بن کر اسکی خوشی اور مرضی کے خلاف کر کے بیٹھاہے ۔
صورت مسئو لہ میں سائل اگر چہ خاندانی لحاظ سے لڑکی سے بہتر ہو تب بھی کسی اجنبی لڑکی سے اس طرح تعلق استوار کرکے ان کے اولیاء اور سرپرستوں کے علم میں لائے بغیر اس کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً عرفاًاور اخلاقاً نامناسب اور معیوب عمل ہے، جسے کسی بھی شریف خاندان میں اچھا نہیں سمجھا جاتاہے، تا ھم جب مذکور لڑکی عاقلہ بالغہ ہےاور دونوں نے باہمی رضامندی سے نکاح کرلیا ہے ، اور دونوں کفو بھی ہیں ، تو اب لڑکی کو چاہیئے کسی مناسب طریقہ سے اپنے بھائی کو اس رشتے کے لئے آمادہ کرکے سب کے سامنے اعلانیہ نکاح اور رخصتی کی ترتیب بنائیں تاکہ ان کے لئے بھی بےعزتی کا سبب نہ بنے ، اور اگر وہ کسی صورت اس رشتہ کے حق میں نہ ہو یا اپنی بہن کی شادی کرانے کے لئے تیار ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ کسی مناسب طریقہ سے اپنے نکاح کا اظہار بھی کرسکتی ہے ، اور سائل کو بھی چاہیئے کہ وہ اس لڑکی کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے محفوظ کرنے کی کوشش کرے، ورنہ سائل کے ساتھ اس نکاح اور تعلق کی وجہ سے مستقبل میں اسے پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
کما فی الھدایہ : و لا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین مسلمین عجلین او رجل و امراتین ، عدولاً کانوا او غیر عدول ، او محدودین فی القذف الخ (ج 2 ص 5 کتاب النکح ط انعامیہ )۔
وفی الفقہ الحنفی : لا اجبار علی البکر البالغہ فی النکاح لما روت السیدۃ عائشۃ عن النبی ﷺ قال ، استامروا النساء دی ابضاعھنّ الخ (ج 2 ص 161 کتاب النکاح ط وحیدی )۔
وفی الدر المختار : (الاعتراض فی غیر الکفء ) فیفسخہ القاضی ویتجدد بتجدد النکاح الخ ۔ (ج 3 ص 56 باب الولی ط سعید )۔
وفی ردلمحتار : تحت(قوله فنفذ إلخ) أراد بالنفاذ الصحة (الی قولہ ) فمعارض بقوله - صلى الله عليه و سلم - «الأيم أحق بنفسها من وليها» رواه مسلم وأبو داود و الترمذي و النسائي ومالك في الموطأ، و الأيم من لا زوج لها بكرا أو لا فإنه ليس للولي إلا مباشرة العقد إذا رضيت وقد جعلها أحق منه به.ويترجح هذا بقوة السند والاتفاق على صحتهالخ (ج 3 ص 55 باب الولی ط سعید )۔ واللہ اعلم