کیا زانی مرد سے نکاح کرنا جائز ہے ؟اگر کسی لڑکی کا نکاح ایسے مرد سے ہو جائے جو زنا کار ہو (لڑکی اور اس کے گھر والوں کے علم میں نہ ہو)تو کیا وہ نکاح حرام قرار دیا جائیگا؟اور اگر شوہر نکاح کے بعد بھی زنا کرتا رہا ہوتو اب شرعی طور پر بیوی کے لئے کیا حکم ہوگا ؟
واضح ہو کہ لاعلمی میں اگر زانی مرد سے نکاح ہو جائے تو نکاح شرعاً منعقد ہو جائے گا، البتہ نکاح جیسے زندگی کے اہم فیصلے کرنے میں لڑکے کے متعلق مکمل معلومات لینے کے بعد ہی رشتہ طے کرنا چاہیئے، تاکہ بعد کی زندگی خوشگوار گزرے اور لڑکی کا گھر برباد نہ ہو، صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی والوں کو شخصِ مذکور کے زانی ہونے کا علم نہیں تھا اور لا علمی میں اس سے نکاح کرا دیا تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا ہے، چنانچہ لڑکی کیلئے اب شوہر کے مذکور گناہ کی وجہ سےاس سے طلاق کے مطالبے کا حق حاصل نہیں، بلکہ اس کو چاہیئے کہ از خود یا خاندان کے با اثر افراد کے ذریعے یا کسی اللہ والے کے ذریعے اس کو اس گناہِ کبیرہ سے روکنے کی کوشش کرےاور ساتھ دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، ان شاء اللہ اُمید ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا۔
کما فی الهداية: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي۔اھ (1/185)
وفی الفتاوىٰ الهندية: (كتاب النكاح)(إلی قوله)(وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل والأخيران شرطا النفاذ؛ فإن نكاح الصبي العاقل يتوقف نفاذه على إجازة وليه هكذا في البدائع۔اھ (1/267)