کن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؟ اور کیا زکوٰۃ دینے والے کو بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے؟
واضح ہو کہ مستحق کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کے بارے میں بتانا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ گفٹ کے نام سے زکٰوۃ دی جاسکتی ہے اور سائل کو ایسا ہی کرنا چاہیئے، تاکہ سفید پوش حضرات کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
جبکہ درج ذیل لوگوں کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائزنہیں:
(1)۔مالدار کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں، یعنی جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت، نقدی یا حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو تو ایسا شخص شرعاً مالدار کہلاتا ہے، لہذا اس کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں۔
(2)۔اپنے اصول (والدین، دادا دادی، نانا نانی وغیرہ) اور فروع (بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں وغیرہ) کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں، البتہ ان کے علاوہ اپنے قریبی مستحق رشتہ داروں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، بلکہ قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا دوہرے اجر کا باعث ہے۔
(3)۔سید اور ہاشمی کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں۔
(4)۔مساجد اور رفاہی اداروں میں براہِ راست زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
(5)۔کافر کو زکوٰٰۃ دینا جائز نہیں۔
(6)۔میاں بیوی کا آپس میں اپنی زکوٰۃ ایک دوسرے کو دینا جائز نہیں۔
ففی الفتاوى الهندية: ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية (1/ 171)
وفیها ایضا: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه اھ (1/ 189)
وفیها ایضا: ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية اھ (1/ 189)
وفی الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)اھ (2/ 344)
وفی حاشية ابن عابدين: وفي القريب جمع بين الصلة والصدقة. وفي القهستاني: والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ثم أعمامه وعماته ثم أخواله وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. اهـ. (2/ 353)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0