نکاح

میاں بیوی کے الگ رہنے کے بعد طلاق اور عدت کا حکم

فتوی نمبر :
69743
| تاریخ :
2023-12-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

میاں بیوی کے الگ رہنے کے بعد طلاق اور عدت کا حکم

شوہر سے طلاق لی جائے، لیکن شوہر دو سال سے ملک سے باہر ہو، مطلب شوہر بیوی دو سال سے ملے نہ ہوں تو عدت لازمی ہے یا بغیر عدت کسی اور سے نکاح ہوجائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شوہر جب تک بیوی کو طلاق یا خلع نہ دیدے تو صرف الگ رہنے کی وجہ سے ان کا نکاح نہیں ٹوٹتا، بلکہ برقرار رہتا ہے، خواہ کتنا عرصہ ہی دونوں میاں بیوی علیحدہ رہیں، چنانچہ اس صورت میں اگر شوہر اپنی مدخول بہا بیوی کو طلاق دیدے تو اس پر عدت(تین ماہواری) لازم ہے، لہذا عدت گزارے بغیر عورت کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله سبحانه وتعالیٰ: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} [البقرة: 228]
وفى بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ اھ (3/ 98)
وفيھا أيضا: ومنها أن لا تكون معتدة الغير لقوله تعالى: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] أي: ما كتب عليها من التربص، ولأن بعض أحكام النكاح حالة العدم قائم فكان النكاح قائما من وجه. والثابت من وجه كالثابت من كل وجه في باب الحرمات اھ (2/ 268)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69743کی تصدیق کریں
0     637
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات