نکاح

غیر کی منکوحہ کا بغیر طلاق لئے دوسرے شخص سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
69815
| تاریخ :
2023-12-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر کی منکوحہ کا بغیر طلاق لئے دوسرے شخص سے نکاح کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ ”دلاور علی ولد ارشد“ علی کا نکاح مسماۃ ”سدیہ بنت نذیراحمد “ سے آج سے تقریباً سات سال قبل ہوگیاتھا ،اس نکاح سے ہمارے تین بچیاں بھی ہیں ابھی تقریباً پانچ ماہ قبل میری بیوی میری گھر سے بغیر اجازت کے چلی گئی اور مجھ سے طلاق ،خلع لیے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا ہے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح میرے نکاح میں ہوتے ہوئے ان کا کہی اور نکاح کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟اور ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو توسائل مسمیٰ ”دلاور علی “ کی بیوی ”سعدیہ بنت نذیر احمد“ کا سائل سے طلاق اور خلع لئے بغیر اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور شخص کیساتھ نکاح کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،جس پر سائل کی بیوی کوبصدقِ دل توبہ و استغفار اور فوراً اس دوسرے شخص سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ،جبکہ سائل کو چاہیئے کہ ازخود یا خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے بیوی کو سمجھاکر اس ناجائز عمل سے روکنے کی کوشش کرے لیکن اگر وہ سمجھانے کے باوجود بھی مذکور طرز عمل سے باز نہ آئے توپھر سائل کو قانونی چارہ جوئی کابھی حق حاصل ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار : أما نكاح منكوحة الغير و معتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا . قال : فعلى هذا يفرق بين فاسده و باطله في العدة ، و لهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ.(3/132)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمداللہ مولاداد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69815کی تصدیق کریں
0     908
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات