السلام علیکم! میرا نام محمد انعام عباسی ہے اور میں پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں ، اپنی ماسٹر سٹڈی کے لۓ میں اب ملائیشیا میں رہ رہا ہوں، یہاں ملائیشیا میں یہ میرا پہلا رمضان ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ ملائیشیا کے لوگ پاکستان سے بہت ہی مختلف انداز میں نماز ادا کرتے ہیں جیسے کہ وہ امام شافعیؒ کی تقلید کرتے ہیں، جبکہ ہم پاکستان میں امام ابوحنیفہؒ کی تقلید کرتے ہیں ، میں آپ سے تراویح اور وتر کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ، تراویح میں تمام مساجد میں وہ آٹھ رکعتیں پڑھتے ہیں ، جبکہ پاکستان میں ہم بیس رکعات پڑھتے تھے ، وتر کی بھی وہ دو رکعت پڑھتے ہیں پھر ایک رکعت علیحدہ پڑھتے ہیں ،(تمام رکعات امام کے پیچھے) اور وہ دعائے قنوت بھی نہیں پڑھتے ، جبکہ پاکستان میں ہم وتر کی تین رکعات اکٹھی پڑھتے تھے ، اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیۓ ؟ جبکہ یوینورسٹی کے قریب کوئی دوسری مسجد بھی نہیں ہے ، براہِ کرم جلدی جواب دیں ، کیونکہ یہاں بھی رمضان شروع ہو چکا ہے۔
تراویح کی بیس رکعات ہیں اور شوافع کے ہاں بھی تراویح کی رکعات اس سے کم نہیں ، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ تراویح کی بیس رکعات مکمل کرے، اور وتر کی نماز جماعت کے بجائے تنہا پڑھ لیا کرے ۔
فی الدر المختار : (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال و النساء) إجماعا (و وقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر و بعده) في الأصح (إلی قوله) (و هي عشرون ركعة) حكمته مساواة المكمل للمكمل (بعشر تسليمات) فلو فعلها بتسليمة ؛ فإن قعد لكل شفع صحت اھ(2/ 43)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و هي عشرون ركعة) هو قول الجمهور و عليه عمل الناس شرقا و غربا . و عن مالك ست و ثلاثون . و ذكر في الفتح أن مقتضى الدليل كون المسنون منها ثمانية و الباقي مستحبا ، و تمامه في البحر اھ (2/ 45)۔
و فی الدر المختار : (و صح الاقتداء فيه) ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في الأصح كما بسطه في البحر (بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله (على الأصح) فيهما للاتحاد و إن اختلف الاعتقاد اھ(2/ 7)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0