نکاح

ولی کے بغیر کئے ہوئے نکاح اور اس کے بعد طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
69893
| تاریخ :
2023-12-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کے بغیر کئے ہوئے نکاح اور اس کے بعد طلاق کا حکم

میرا نام ارم خان ہے، میں نے اپنے ماں باپ اور بھائیوں کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی اور پسند سے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں محمد ندیم سے نکاح کیا، جس سے میرے گھر والے راضی نہیں تھے، جبکہ لڑکے کے گھر والے راضی تھے، اس وجہ سے میری رخصتی بھی نہ ہو سکی، وقت گزرتا گیا اور ہمارے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوئے، کچھ تلخیوں کی وجہ سے محمد ندیم نے مجھے پہلے ایک طلاق دی، پھر رجوع کر لیا، اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک ہی مجلس میں دو طلاقیں دیں، ہمارے طلاق کے اس مسئلے کو لے کر ہم قریب میں ایک مفتی صاحب کے پاس چلے گئے، جنہوں نے کچھ یوں جواب دیا کے ایک مجلس میں دو طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں، لہذا آپ کے پاس ابھی بھی ایک طلاق کا کوٹہ باقی ہے اور آپ دونوں کا نکاح برقرار ہے، مجھے تشفی نہیں ہوئی تو ہم ایک دوسرے مفتی صاحب سے بھی پوچھنے چلے گئے، تواُنہوں نے کہا کہ نکاح میں لڑکی کی طرف سے ولی کا ہونا ضروری ہے، لہذا آپ دونوں کا نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق تو ثانوی بات ہے، لہذا آپ دونوں میاں بیوی نہیں ہیں، محمد ندیم نے اصرار کیا تو ہم دونوں ایک مدرسے کے دار الافتاء چلے گئے، اُنہوں نے جواب دیا کہ آپ دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، لہذا اگر آپ لوگ ابھی بھی ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو شرعی حلالہ کر کے آپ دونوں پھر سے میاں بیوی بن سکتے ہیں۔
مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارا نکاح ٹھیک تھا یا نہیں؟ اور نکاح کے بعد مذکورہ بالا صورت میں طلاق واقع ہو چکی ہے یا ابھی بھی ایک طلاق کا کوٹہ باقی ہے؟ اور اگر طلاق ہو چکی ہے، تو کیا شرعی حلالہ کیاجاسکتا ہے، اگر ہاں تو اُس کا صحیح طریقہ کیا ہو گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اولیاء کی رضامندی کے بغیر بالغ لڑکے ولڑکی کا اپنی مرضی سے نکاح کرنا انتہائی نامناسب اور بڑی جسارت پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس کو انتہائی قبیح سمجھا جاتاہے، اور اگر ایسا نکاح غیر کفؤ میں ہو تو سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا، لہذا سائلہ کا والدین کی رضامندی کے بغیر ازخود اپنا نکاح کرنا نامناسب اقدام تھا، تاہم اگر مذکور لڑکا سائلہ کا ہم پلہ ہو، اور یہ نکاح باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے ساتھ کیا گیا ہو، تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا تھا، چنانچہ سائلہ کے شوہر نے اگر پہلے ایک طلاق رجعی دینے کے بعد رجوع کرلیا تھا، تو وہ رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح برقرار تھا، لیکن اگر کچھ عرصہ بعد سائلہ کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں دوطلاقیں دیدی ہوں، تو یہ دونوں طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی اعتبار سے تین طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والا تعلق ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعداپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد ِنکاح کرے، چناچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا بیوی سے پہلے انتقال ہو جائے، تو بہر صورت اسکی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے، اور وہ پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد ِنکاح کرکے باہم میان بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقد نکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے، اوراس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا) رضا (ولی) والاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ وما لا فلا (ولہ) ای للولی (اذا کان عصبۃ ولو غیر محرم) (الی قولہ) (الاعتراض فی غیر الکفء) فیفسخہ القاضی ویتجدد بتجدد النکاح الخ (ج3 صـ55-53 کتاب النکاح باب الولی ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: واذا قال لامراتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا الخ (ج1 صـ355 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفی صحیح البخاری: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا جائت امراۃ رفاعۃ القرظی الی النبی ﷺ فقالت: کنت عند رفاعۃ فطلقنی فابت، فتزوجت عبد الحمٰن بن الزبیر فانما معہ مثل ھدبۃ الثوب، فقال: اتریدین ان ترجعی الی رفاعۃ؟ لا حتی تذوقی عسیلتہویذوق عسیلتک۔ الحدیث (ج2 صـ1243 باب الشھادۃ المختبی ط: بشری)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69893کی تصدیق کریں
0     1034
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات