نکاح

کیا میاں و بیوی کا چار سال جدا رہنے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟

فتوی نمبر :
69898
| تاریخ :
2023-12-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا میاں و بیوی کا چار سال جدا رہنے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے؟

السلاعلیکم ! چار سال کی جدائی کے بعد نکاح کے صحیح ہونے کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہمیں دوبارہ نکا ح کرنے کی ضرورت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ ان میاں وبیوی کے درمیان چار سال کی جدائی کا سبب کیا تھا ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائلہ اور اس کا شوہر چار سال ایک دوسرے سے ناراضگی یا کسی اور وجہ سے جدا و دور رہے ہوں ، مگر اس عرصہ میں میاں بیوی کے درمیان طلاق ، خلع یا ایلاء کی کوئی صورت پیش نہ آئی ہو، تو فقط اتنا عرصہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ بدستور بر قرار ہے،لہذا میاں بیوی بغیر تجدید نکاح کئے حسبِ سابق ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: رفع قيد النكاح في الحال، أو المال بلفظ مخصوص، هو ما اشتمل على الطلاق الخ (کتاب الطلاق ج 3 ص 226 ط :سعيد)
وفي الهندية : فهو رفع قيد النكاح حالاً أو مالا بلفظ مخصوص کذا فی البحر الرائق ( كتاب الطلاق ج 1 ص 347 ط : ما جدیه )۔
وفي بحر الرائق : ( وهو رفع القيد الثابت شرعاًبالنكاح) ( الى قوله )رفع قيد النكاح حالا او مالابلفظ مخصوص فخرج يقيد النكاح الخ ( كتاب الطلاق ج 3 ص 235 ط : ماجدیہ) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69898کی تصدیق کریں
0     801
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات