نکاح

عدت میں کئے ہوئے نکاح کے بعد طلاق دینے سے کیا عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی؟

فتوی نمبر :
69926
| تاریخ :
2023-12-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عدت میں کئے ہوئے نکاح کے بعد طلاق دینے سے کیا عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری طلاق2023/10/19 کو ہوئی تھی جس کا فتویٰ میں نے درالافتاء سے بھی لیا تھا، فتویٰ میں میری طلاق ثابت ہوگئی ہے ، میری طلاق کو دو مہینے گزرنے سے پہلے ہی مجھے تین حیض ہوگئے ، اس کےبعد میں نے دوسرا نکاح کرلیا اور مجھے یہ یقین نہیں کہ میرے تینوں حیض میں 15 دن کاوقفہ نہیں تھا ،8 یا 10 دن ہوئے ہونگے اور اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ میر ے حیض اور پاکی کے ایام مقرر تھے ،مہینے میں کبھی پانچ اور کبھی چھ دن حیض کے ہوتے تھے اور باقی ایام پاکی رہتی تھی ، میں نے جس شخص سے دوسرا نکاح کیا ہے میرے گھر والے اس کے خلاف تھے اور جب انہوں نے ہمیں ایک ساتھ دیکھا تو میری ماں ، بہن اور بھائی نےمجھےلاتوں ، ڈنڈوں سے بے حد مارا اور میرے ناک سے خون بھی آرہا تھا پھر انہوں نے میرےدوسرےشوہر جس سے میں نے نکاح کیا اسے بھی مارا اور اسے دھمکی دی کہ تم اسے طلاق دو ،نہیں تو ہم اسے ماردینگے اور تمہیں بھی ماردینگے ، میری حالت بہت خراب تھی، مار پڑھنے کی وجہ سے گر گئی تھی ، تو میرے شوہر نے میری جان بچانے کےلئے اس نے میری ماں اور بھائی کےکہنے پر تین طلاق دیدی ، طلاق کےالفاظ یہ تھے : " طلاق دیتا ہوں" یہ جو زبردستی طلاق دلوایا گیا کیا شریعت کے مطابق طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟
نوٹ: میرا نکاح ہوا تھا یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہوا تھا تو ہمارے درمیان جو جسمانی تعلق رہا اس کا کیا حکم ہے ؟اور اب جو تین طلاق دی ہیں اس کا کیاحکم ہے؟ اور اب میرے لئے کیا حکم ہے ان کے ساتھ جاسکتی ہوں یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں،جبکہ دوسرے شوہر کو میں نے یہ بتایا تھا کہ طلاق کےبعد میرے تین حیض مکمل ہوچکے ہیں ، جس کےبعد باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ہمارا نکاح ہوا اور نکاح کے بعد ہم نے ازواجی تعلق بھی قائم کیاتھا ، پھر اس کے بعد میری فیملی کے اصرار پر دوسرے شوہر نے تین طلاقیں دیدیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائلہ کے حیض و پاکی کے ایام متعین اور معلوم تھے ، تو سائلہ کےلئے اپنی عادت کے مطابق تین ماہواریاں پوری کرکے عدت مکمل کرنے سے قبل دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں تھا ، جس پر اسے توبہ واستغفار لازم ہے ،البتہ اگردوسرے شوہرنے سائلہ سے لاعلمی میں دوران عدّت نکاح کیا ہو، اسے اس بات کا علم نہ تھا کہ مذکور عورت کی عدت مکمل نہیں ہوئی ہے ،تو ایسی صورت میں یہ نکاح درست نہیں ہوا بلکہ فاسد ہے اور نکاح ِ فاسد میں مرد کےلئے شوہر کی حیثیت سے عورت کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہوتا ، بلکہ الفاظِ متارکہ (میں نے چھوڑ دیا وغیرہ) کہہ کر اس سے علیحدگی اختیار کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے ، چنانچہ سائلہ کے دوسرے شوہر نے سائلہ کے اہل ِ خانہ کے اصرار پرجو تین طلاقیں دی ہیں یہ متارکہ کے حکم میں ہوکر اس سے نکاح فسخ ہوچکاہے لیکن اس نکاح ِ فاسد اور اس میں ہمبستری کی وجہ سے سائلہ اپنے پہلے شوہر کےلئے حلال نہیں ہوگی ، بلکہ اب اس کے ذمہ پہلے شوہر کی عدت پوری کرنا لازم ہوگا ، چنانچہ پہلے شوہر کی عدت مکمل ہونے کے بعد سائلہ اس دوسرے شخص یا اس کے علاوہ کسی اور شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ:قال الله تعالى :﴿ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾(سورة البقرة،آيت نمبر:۲۳۵)
وفی فتاوی الھندیة: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح كذا في البدائع۔(۱،ص:۲۸۰)۔
وفی الدر المختار و رد: قوله: ( نكاحا فاسدا ) هي المنكوحة بغير شهود ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة الخ(ج۳ص۵۱۶)۔
وفی رد :قولہ( في نكاح فاسد ) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد فيسقط الحد ويثبت النسب ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل(الی قولہ)لأن الطلاق لا يتحقق في النكاح الفاسد بل هو متاركة - - - في البزازية المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول تخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة الخ(رد المحتار، مطلب في النكاح الفاسد، (ج ۴ ص ۲۷۴،۲۷۶)۔
وفی الھندیة: ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها ‌منكوحة ‌الغير فوطئها؛ تجب العدة الخ (۳۴۶/۱)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها أن يكون النكاح الثاني صحيحا حتى لو تزوجت رجلا نكاحا فاسدا ودخل بها لا تحل للأول؛ لأن النكاح الفاسد ليس بنكاح حقيقة، ومطلق النكاح ينصرف إلى ما هو نكاح حقيقة ولو كان النكاح الثاني مختلفا في فساده، ودخل بها لا تحل للأول عند من يقول بفساده لما قلنا، فإن تزوجت بزوج آخر ومن نيتها التحليل فإن لم يشرطا ذلك بالقول، وإنما نويا، ودخل بها على هذه النية حلت للأول في قولهم جميعا؛ لأن مجرد النية في المعاملات غير معتبر فوقع النكاح صحيحا لاستجماع شرائط الصحة فتحل للأول كما لو نويا التوقيت، وسائر المعاني المفسد الخ(۳/ ۱۸۷).
وفی تبیین الحقائق: أن المنكوحة إذا وطئت بشبهة بأن تزوجها رجل ودخل بها تجب عليها العدة وتحرم على الأول على ما هو المختار واختار خواهر زاده أن العدة لا تجب ولا يحرم وطؤها على الأول، وقيل إذا كان الثاني عالما فكما اختاره خواهر زاده وإن لم يعلم فكالأول الخ(ج: ۲، ص: ۱۷۲)۔
وفی الدرالمختار و رد (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) (وجبت عدة أخرى) (وتداخلتا، والمرئي) من الحيض (منها، و) عليها أن (تتم) العدة (الثانية إن تمت الأولى)
وفي الدرر: اعلم أن المرأة إذا وجب عليها عدتان، فإما أن يكونا من رجلين، أو من واحد، ففي الثاني لا شك أن العدتين تداخلتا، وفي الأول إن كانتا من جنسين كالمتوفى عنها زوجها إذا وطئت بشبهة، أو من جنس واحد كالمطلقة إذا تزوجت في عدتها فوطئها الثاني وفرق بينهما تداخلتا عندنا ويكون ما تراه من الحيض محتسبا منهما جميعا، وإذا انقضت العدة الأولى ولم تكمل الثانية فعليها إتمام الثانية اھ(۵۱۹/۳)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."(ج: ۱، ص: ۴۷۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69926کی تصدیق کریں
0     936
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات