نکاح

امام بارگاہ میں کئے گئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
69965
| تاریخ :
2023-12-25
معاملات / احکام نکاح / نکاح

امام بارگاہ میں کئے گئے نکاح کا حکم

السلام علیکم ! میں ایک حنفی مسلمان ہوں ، میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر کسی امام بارگاہ میں مسلمان کا نکاح ہو جائے تو اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ میں سمجھتا ہوں کہ امام بارگاہ میں شیعہ حضرات صحابہ کرام کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا نکاح پر کوئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ اور اگر کسی مسلمان کا نکاح امام بارگاہ میں ہواہے ، تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صحتِ نکاح کے لئے شرعاً کسی مخصوص جگہ کا ہونا ضروری نہیں بلکہ صحت نکاح کی شرائط مثلا گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب وقبول وغیرہ کو ملحوظ رکھ کر کسی بھی جگہ نکاح کر لیا جائے، تو یہ نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہوگا ، البتہ نکاح جیسی با برکت سنت کے انعقاد کے لئے امام بارگاہ وغیرہ کے بجائے مساجد کا انتخاب کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبساً (بإيجاب )من أحدها (وقبول) من الآخر اھ ( ج ۳ ص 9 ط: سعید)۔
وفيه أيضاً : ويندب إعلانه وتقديم خطبة وکونه في مسجد جمعة بعاقد رشيد و شهود وعدول اھ (ج3 ص 8 ط: سعید)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69965کی تصدیق کریں
0     736
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات