نکاح

غلط عمر بتاکر کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
69971
| تاریخ :
2023-12-25
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غلط عمر بتاکر کئے ہوئے نکاح کا حکم

شادی 6 سال قبل ہوئی تھی اور دولہا کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ دلہن اور اس کے اہل خانہ نے غلط عمر کا ذکر کیا اور غلط بیانی کی ، تاہم اس وقت دولہا نے اسے نظر انداز کیا اور تب سے ان کے 2 اور 5 سال کی عمر کے 2 بچے ہیں ۔
اب کچھ خاندانی مسائل کی وجہ سے دلہن اپنے والد کے گھر پر ہے ، دولہا جاننا چاہتا ہے کہ یہ نکاح حلال ہے یا نہیں ؟ کیونکہ دلہن نے غلط عمر بتائی ہے ، اگر نکاح حرام ہے تو کیا دولہا بچوں کا کفیل ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ نکاح کے وقت دلہن نے غلط کام کیاتھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نکاح کے وقت لڑکی والوں کی جانب سے لڑکی کی عمر کم بتلانا اور اس میں غلط بیانی کرنا جھوٹ ، دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اگر چہ ناجائز اور گناہ ہے ، تاہم اس غلط بیانی کی وجہ سے نکاح کی صحت و درستگی پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے ، لہٰذا مذکور میاں و بیوی کا ایک ساتھ زندگی بسر کرنا درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: «إن الصدق يهدي إلى البر، و إن البر يهدي إلى الجنة، و إن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا . وإن الكذب يهدي إلى الفجور، و إن الفجور يهدي إلى النار، و إن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا» ۔ ( کتاب الادب ، ج۲ ، ص۹۰۰ ، ط۔ قدیمی ) ۔
و فی الھدایۃ: " النكاح ينعقد بالإيجاب و القبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي " لأن الصيغة و إن كانت للإخبار وضعا فقد جعلت للإنشاء شرعا دفعا للحاجة الخ۔ (کتاب النکاح ، ج۲ ، ص۳۲۵ ، ط۔ رحمانیہ )۔
و فی الدرالمختار: أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة ، رضاع، جمع ، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة ، فهي سبعة الخ ۔ ( کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات ، ج۳ ، ص۲۸ ط۔ ایم سعید

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69971کی تصدیق کریں
0     586
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات