آپ سے یہ معلوم کرنا ہے ، کہ میری سالی کے چار بیٹے ہیں ، اور وہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ اپنے بڑے بیٹے کے لئے لینے آئی ، میں نے ان کو جواب دے دیا ، کیونکہ میرا اُدھر رشتہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ، مگر مجھے بعد میں یاد آیا کہ میری سالی نے میری اس بڑی بیٹی کو اپنے تیسرے نمبر کے بیٹے کے ساتھ بچپن میں دودھ پلایاتھا، اس سلسلےمیں آپ سے یہ معلوم کرنا ہے ، اگر میری رضامندی ہوتی اور میں یہ رشتہ کرتا ، تو کیا شرعی اعتبار سے میری بڑی بیٹی کا میری سالی کے بڑے بیٹے سے رشتہ ہوسکتا ہے ، اور میری سالی کے دوسروں بیٹوں کا بھی شرعی روسے میری بڑی بیٹی سے کیا رشتہ بنا ،؟برائےمہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
صورت مسؤلہ میں سائل کی بیٹی نے اگر مدت رضاعت میں اپنی خالہ (سائل کی سالی ) کا دودھ پیاہو ،تو اس سےحرمت رضاعت ثابت ہو کر سائل کی بیٹی اپنی خالہ (سائل کی سالی ) کی رضاعی بیٹی اور ان کی تمام اولاد کی رضاعی بہن بن چکی ہے ،اور چونکہ حقیقی بھائی کی طرح رضاعی بھائی کے ساتھ بھی نکاح شرعاً جائز نہیں ہوتا ، اس لئے سائل کی بیٹی کااپنی خالہ کے کسی بھی بیٹے سے نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فى صحيح مسلم : عن عائشة قالت : قال لى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة(کتاب الرضاع ص 593 ط : مؤسسۃالرسالۃ)
وفى الهندیۃ: يحرم على الرضيع ابواه من الرضاع واصولهما وفروعها من النسب والرضاع جميعا الخ ( كتاب الرضاع ج 1 ص 343ط : ما جدیۃ)
وفى الدر المختار ( فيحرم منہ) ای بسببہ(مایحرم من النسب ) اھ (باب الرضاع ج3 ص 213 ط:سعید)