السلام علیکم! معزز ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھنا ہے ، عائشہ اور زید دونوں خون کے بہن بھائی ہیں ، اور عائشہ بڑی ہے، جبکہ زید چھوٹا بھائی ہے ، ایک اور لڑکی ہے میمونہ ، جوکہ عائشہ اور زید کی سگی خالہ ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ عائشہ اپنی خالہ یعنی میمونہ کی ہم عمر ہے اور دودھ شریک بہن بھی ہے ، کیونکہ بچپن میں عائشہ اور زید کی ماں نے اپنی بہن میمونہ کو دودھ پلایا تھا عائشہ کے ساتھ ، پھر بہت وقت گزر گیا یہاں تک کہ میمونہ کی شادی ہوگئی اور اس کی بیٹی پیدا ہوئی ، جس کا نام مہرین ہے ، مہرین بڑی ہوئی تو کیا مہرین جو کہ زید کی خالہ کی بیٹی ہے ، کیا مہرین کا نکاح زید سے ہو سکتا ہے ؟ جب کہ زید کی بڑی بہن عائشہ اور زید کی خالہ میمونہ دودھ شریک بہنیں ہیں ، مسئلہ حل فرمائیں ۔ جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں عائشہ و زید کی والدہ نے اگر مدتِ رضاعت میں مسماۃ میمونہ کو دودھ پلایا ہو ، تو اس دودھ پلانے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوکر مسماۃ میمونہ ، زید و عائشہ کی رضاعی بہن اور زید ، میمونہ کی بیٹی مسماۃ مہرین سمیت تمام اولاد کا رضاعی ماموں بن چکا ہے ، اور جس طرح حقیقی ماموں اور بھانجی کا باہم عقدِ نکاح جائز نہیں ، اسی طرح رضاعی ماموں اور بھانجی کا نکاح بھی جائز نہیں ، لہٰذا زید کا مسماۃ مہرین سے نکاح کرنا شرعاً نا جائز و حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی صحیح مسلم: عن عائشۃ قالت: قال لی رسول اللہ ﷺ"یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ " اھ ( کتاب الرضاعۃ صـــ 593 رقم الحدیث : 1444 ط : مؤسسۃ الرسالۃ ) ۔
و فی الھندیۃ: یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جمیعاً الخ ( کتاب الرضاعۃ ، ج 1 صـــ 343 ط : ماجدیہ ) ۔