میری عمر 23 سال ہے، میں نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کر لیا چھپ کے، اب ہماری فیملی اگر مان جائے اور دوبارہ سے ہمارا نکاح کروانا چاہیں تو کیا نکاح پر کوئی فرق پڑےگا؟
واضح ہو کہ لڑکا لڑکی کا والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا بڑی بے شرمی اور انتہائی جسارت پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کےنکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور چونکہ اس طرح چھپ کر کیا ہوا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لیے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور اگر لڑکا لڑکی کا کفو (ہم پلہ) نہ ہو تو بعض فقہاءِ کرام کے نزدیک تو اس طرح نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اس لیے اس طریقہ کار سے احتراز لازم ہے۔
لہذا سائل اگر لڑکی کا کفو (ہم پلہ) ہو اور نکاح باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ہوا ہو تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے، البتہ سائل اور مذکور لڑکی کا والدین سے چھپ کر نکاح کرنا مناسب اور درست عمل نہیں تھا، جس پر دونوں کو والدین سے معافی مانگنی چاہیئے اور آئندہ کے لیے دوبارہ اس قسم کے کاموں سےمکمل اجتناب کرنا چاہیئے ، چنانچہ اگر معافی تلافی کے بعد والدین اس رشتہ پر راضی ہوجائیں اور بدنامی سے بچنے کے لیے ایک بار سب رشتہ داروں کے سامنے تجدیدِ نکاح کرانا چاہیں تو شرعاً یہ بھی جائز ہے، اس سے پہلے والے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔