ایک عورت کا بھائی پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے ، اور جس لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے ،اس کے دو بھائی ہیں جن میں سے ایک کا ذہنی توازن درست نہیں ،لڑکی والوں کی شرط ہے کہ لڑکے کی بہن کی شادی اس لڑکے سے کروائی جائے، جس کا ذہینی توازن درست نہیں ، لیکن اس پر لڑکے کی بہن نے انکار کر دیا ، لیکن بھائی بضدتھا کہ ان کی شرط مان لی جائے، جس کی پوری پوری حمایت اس کے والدین نے بھی کی، لیکن لڑکی اس بات پر راضی نہیں تھی، وہ اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، جو خود ذہنی طور پر مفلوج ہو ، اس پر لڑکی نے والدین سے درخواست کی کہ وہ اس کی شادی اس کے دوسرے بھائی سے کروا دے، لیکن والدین نے اس کی بات نہ مانی اور اس لڑکی کا زبردستی نکاح اس لڑکے سے کروا دیا ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی، لڑکی نے 8 سال اپنے والدین کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ اسکی رخصتی نہ کی جائے، بلکہ اس سے طلاق لے کر اس کی شادی کسی اور جگہ کر دی جائے، لیکن جب اس بات کا علم لڑکی کی بڑی بہن اور اس کے شوہر کو اور ماموں کو ہوا تو انہوں نے اس کا ساتھ دیا اور لڑکی کو ماموں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے ، والدین سے بات کی جس پر والدین راضی نہیں ہوئے، بعد ازاں لڑکی کے ماموں نے عدالت میں خلع کا کیس کر دیا ، اسی کیس کے دوران لڑکی کے والد کی وفات ہو گئی،عدالت نے لڑکی کے حق میں فیصلہ سنا دیا، اس کیس کی وجہ سے خاندان میں تنازعات بہت زیادہ ہوگئے ، اور ایک دوسرے سے علیحدگی ہوگئی، اور خاندان 2 حصوں میں تقسیم ہو گیا، لڑکی کے ماموں نے اس کی شادی اپنے بیٹے سے کروا دی ، اس شادی کے 6ماہ بعد والدہ کی وفات ہوگئی، اس سارے معاملے میں لڑکی کے والدین ناراض تھے ، اور اسی ناراضگی میں وفات پاگئے ،کیا والدین کی یہ ناراضگی جائز ہے ؟اور اگر جائز ہے تو ان سے کس طرح معافی مانگی جاسکتی ہے؟ کیا اس پر لڑکی والدین کی نافرمان ہوئی ؟ اس کا کیا شرعی حکم ہوگا؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ مذکور لڑکی کے والدین مرحومین نے اپنے بیٹے کے رشتہ کی خاطر عاقلہ بالغہ بیٹی کی رضامندی کے بغیر زبردستی اس کا نکاح ذہنی معذور لڑکے کے ساتھ کرایا ہو ، اور لڑکی آخر تک اس نکاح پر آمادہ نہ ہو ، تو اس پہلے نکاح کی شرعی حیثیت اور پھر خلع کے ذریعے اس کو ختم کرنا اور اس کے بعد دوسرا نکاح کرنا قابل غور پہلو ہیں ، جس میں لڑکی کا پورا بیان اور عدالتی خلع کی ڈگری اور تفصیل جاننے کے بعد حکم شرعی بیان کیا جاسکتا ہے ، تاہم اس پوری صورت حال میں چونکہ لڑکی اپنے شرعی حق اور مستقبل کے حوالہ سے پائے جانے والے خدشات کو بنیاد بناکر والدین کے کرائے گئےنکاح سے انکار کرتی رہی ، اس لئے یہ عمل والدین کی نافرمانی تو شمار نہ ہوگا ، البتہ اس کی وجہ سے والدین کی جو کچھ دل آزاری ہوچکی ہے ، تواب ان کے حیات نہ ہونے کی صورت میں مذکور لڑکی کو چاہیئے کہ وہ اپنے والدین کے حق میں کثرت کے ساتھ ایصالِ ثواب کرے اُمید ہے ، کہ اللہ رب العزت کی جانب سے عافیت والا معاملہ ہوگا ۔
قال اللہ تعالی :وقضی ربک اَلاّتعبدوا اِلاّاِیّاہُ وبالوالدین احسانا ، اِمّا یبلغنّ عندک الکبر احدھما اَو کلاھما فلا تقل لھما اُفٍ وّلاتنھرھما وقل لھما قولاً کریماً، (ایہ 23 سوارۃبنی اسرائیل )۔
وفی فتاوی الھندیہ:الاصل فی ھذاالباب انّ الانسان لہ أن یجعل ثواب عملہ صلاۃً کان أو صوماً أو صدقۃ أو غیرھا کالحج وقرأۃ القرآن والأذکار الخ (ج 1 ص 541 الباب الراب عشر فی الحج عن الغیر ط رشیدیہ)۔
وفی الفقہ الحنفی : لا اجبار علی البکر البالغہ فی النکاح لما روت السیدۃ عائشۃعن النبی ﷺاستامروا النساء فی ابضاعھنّ الخ (ج 2 ص161 کتاب النکاح ط وحید ) ۔