نکاح

منکوحہ عورت کا دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
70122
| تاریخ :
2024-01-03
معاملات / احکام نکاح / نکاح

منکوحہ عورت کا دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے نکاح کا حکم

اگر کوئی منکوحہ عورت دوسرا نکاح کرلے، جبکہ پہلا شوہر زندہ اور موجود ہے تو پہلے نکاح پر کیا اثر پڑے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ منکوحہ عورت کا اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیر کسی غیر مرد سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے اور ایسا نکاح شرعاً درست منعقد بھی نہیں ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دوسرے شوہر کو مذکور عورت کے منکوحہ ہونے کا علم تھا اور اس کے باوجود اس نے منکوحہ عورت سے نکاح کیا تھا تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ نکاح شرعاً باطل ہے اوراس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں اور اب تک ایک ساتھ جو میاں بیوی کی طرح رہے ہیں، حرام کاری میں مبتلا رہے ہیں، جس پر دونوں کو بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس طرح کے حرام کاموں سے اجتناب لازم ہے، جبکہ اس صورت میں مذکور عورت پر عدت بھی لازم نہیں۔
لیکن اگر نکاح کرتے وقت دوسرے شوہر کو اس کے منکوحہ ہونے کا علم نہیں تھا تو یہ نکاح بھی درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ شرعاً یہ نکاح فاسد ہے، چنانچہ نکاح کے بعد اگر اب تک صحبت نہ کی ہو تو جدائی اختیار کرلیں اور اس صورت میں شوہر پر مہر اور عورت پر عدت بھی لازم نہ ہوگی، لیکن اگر شوہر صحبت کرچکا ہو تو اس پر لازم ہے کہ بیوی سے فوراً علیحدگی اختیار کرے اور بیوی کو متارکت کے الفاظ (میں نے تمہیں چھوڑ دیا وغیرہ) بھی کہہ دے، تاکہ عدت (جو کہ اس صورت میں واجب ہے)کے بعد عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے اور اس دوسرے شوہر پر مہر (مہرِ مثل یا مقررہ مہر میں سے جو بھی کم ہو وہ) بھی لازم ہوگا۔
تاہم دونوں صورتوں میں عورت کا پہلا نکاح ختم نہ ہوگا، بلکہ بدستور برقرار رہے گا، جب تک پہلا شوہر از خود طلاق یا خلع نہ دیدے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی بدائع الصنائع: ومنها أن لا تكون منكوحة الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] معطوفا على قوله عز وجل: {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] إلى قوله: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] وهن ذوات الأزواج، وسواء كان زوجها مسلما أو كافرا إلا المسبية التي هي ذات زوج سبيت وحدها؛ لأن قوله عز وجل: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] عام في جميع ذوات الأزواج (2/ 268)
وفی حاشية ابن عابدين: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ. والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت. وعلى هذا فيقيد قول البحر هنا ونكاح المعتدة بما إذا لم يعلم بأنها معتدة اھ(3/ 132)
وفی الدر المختار: (ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود (بالوطء) في القبل (لا بغيره) كالخلوة لحرمة وطئها (ولم يزد) مهر المثل (على المسمى) لرضاها بالحط، ولو كان دون المسمى لزم مهر المثل لفساد التسمية بفساد العقد (3/ 131)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في نكاح فاسد) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد، فيسقط الحد ويثبت النسب ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل، خلافا لما في الاختيار من كتاب العدة، وتمامه في البحر، وسنذكر في العدة التوفيق بين ما في الاختيار وغيره (قوله وهو الذي إلخ) بخلاف ما لو شرط شرطا فاسدا كما لو تزوجته على أن لا يطأها فإنه يصح النكاح ويفسد الشرط رحمتي (قوله كشهود) ومثله تزوج الأختين معا ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة. وفي المحيط: تزوج ذمي مسلمة فرق بينهما لأنه وقع فاسدا. اهـ. فظاهره أنهما لا يحدان وأن النسب يثبت فيه والعدة إن دخل بحر. (3/ 131)
وفیھا ایضا: (قوله في القبل) فلو في الدبر لا يلزمه مهر لأنه ليس بمحل النسل كما في الخلاصة والقنية فلا يجب بالمس والتقبيل بشهوة شيء بالأولى كما صرحوا به أيضا بحر (قوله كالخلوة) أفاد أنه لا يجب المهر بمجرد العقد الفاسد بالأولى (قوله لحرمة وطئها) أي فلم يثبت بها التمكن من الوطء فهي غير صحيحة كالخلوة بالحائض فلا تقام مقام الوطء، وهذا معنى قول المشايخ: الخلوة الصحيحة في النكاح الفاسد كالخلوة الفاسدة في النكاح الصحيح، كذا في الجوهرة، وفيه مسامحة لفساد الخلوة بحر. والظاهر أنهم أرادوا بالصحيحة هنا الخالية عما يمنعها أو يفسدها من وجود ثالث أو صوم أو صلاة أو حيض ونحوه مما سوى فساد العقد لظهور أنه غير مراد، وهذا سبب المسامحة وفيه مسامحة أخرى، وهي أن الخلوة في النكاح الفاسد لا توجب العدة كما قدمناه عن الفتح مع أن الفاسدة في النكاح الصحيح توجبها كما مر أنه المذهب. (3/ 132)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70122کی تصدیق کریں
0     1654
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات