میرے پاس دو گھر ہیں، ایک میں میں فیملی کے ساتھ رہ رہا ہوں جبکہ دوسرا کرائے پر ہے۔ تو کیا مجھے کرائے کے مکان کی زکوٰۃ دینی ہوگی؟میں نے قسطوں پر فروخت کے مقصد کے لئے2 پلاٹ خریدے ہیں۔ مجھے ابھی تک پلاٹ کا قبضہ نہیں ملا حالانکہ ملکیت میری ہے، کیا مجھے زکوٰۃ دینی ہوگی؟
میرے پاس عام طور پر نقد بچت نہیں ہوتی ہے جو زیادہ وقت تک رہتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناطے فرض کرتا ہوں کہ مجھے 2,000000 روپے ہاؤس بلڈنگ الاؤنس ملتا ہے اور پہلے کوئی بچت نہیں تھی، میں رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتا ہوں تو کیا مجھے اس رقم پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
سائل اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہو اور رمضان المبارک کےمہینے میں زکوٰۃ دیتا رہا ہو (جیسا کہ سوال سے معلوم ہورہاہے ) تو ایسی صورت میں سائل کو ”ہاؤس بلڈنگ آلاونس“ کی مد میں جو رقم مل جائے وہ اگر زکوٰۃ کی تاریخ تک سائل کےپاس رہے، اسے گھر کی خریداری وغیرہ کسی ضروری کام میں خرچ نہ کیا ہو، توایسی صورت میں دیگر اموال ِ زکوٰۃ کی طرح سائل کے ذمہ اس رقم کی زکوٰۃ بھی لازم اور ضروری ہوگی ، اسی طرح جو پلاٹ سائل نے فروخت کرنے کی غرض سےخریدے ہیں اگر زکوٰۃ کی تاریخ تک سائل کی اس نیت اور ارادے میں تبدیلی نہ آئی ہو تو ان پلاٹوں کی مالیت پر بھی سائل کے ذمہ زکوٰۃ لازم ہوگی ، جبکہ جو مکان سائل نے کرایہ پر دیا ہواہے اسکی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں ، البتہ کرایہ کے مد میں حاصل ہونے والی رقم پر دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (ولا في ثياب البدن)...(وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارۃ....(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول)....(أو نية ) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض الخ (۲۶۵/۲)۔
وفی الفتاوى الهندية: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين۔ وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات." (۱/ ۱۷۹)۔
وفیها أیضاً:ومن کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه " الخ(هندیة، کتاب الزکاة۔( ۱/۱۷۵)۔
وفی الھدایة: ولیس فی دور السکنیٰ وثیاب البدن وأثاث المنازل ودواب الرکوب وعبیدالخدمةوسلاح الاستعمال زکوٰةلأنہا مشغولة بالحاجةالأصلیة ولیست بنامیةأیضا الخ(۱۸۶/۱)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0