کیا دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
اگر کوئی شخص دو بیویوں کے درمیان نان نفقہ اور شب باشی وغیرہ دیگر حقوق میں برابری کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کو دوسری شادی کرنا شرعاً جائز ہے ، جبکہ پہلی بیوی سے اجازت لینا بھی لازم نہیں ، البتہ قانوناً پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے ، لہٰذا بعد کے مسائل اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے اگر پہلی بیوی سے اجازت لی جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔
قال اللہ تعالٰی : وَإ ِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَ ثُلَاثَ وَ رُبَاعَ الآیۃ۔ ( النساء ۔۳ )۔
و فی احکام القرآن للجصاص : ( مثنى و ثلاث و رباع ) فإنه إباحة للثنتين إن شاء و للثلاث إن شاء و للرباع إن شاء على أنه مخير في أن يجمع في هذه الأعداد من شاء قال فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الأربع على الثلاث فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الثلاث على الاثنتين فإن خاف أن لا يعدل بينهما اقتصر على الواحدة الخ۔ ( ج، ۲ ، ص، ۵۴ ، باب تزویج الصغار ، ط، سہیل اکیڈمی )۔