میرا سوال یہ ہے کہ نکاح میں دو گواہ موجود نہ ہوں اور خطبہ بھی نہ ہو ، صرف ایجاب و قبول ہو تو کیا نکاح ہوجاتا ہے؟ مطلب صرف لڑکا ، لڑکی اور قاضی ہو تو کیا نکاح ہوجائے گا؟
واضح ہو کہ نکاح کی صحت و درستگی کے لئے مجلسِ نکاح میں باقاعدہ دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا بطورِ گواہ موجود ہونا ضروری ہے ، لہٰذا مذکور نکاح کرتے وقت اگر مجلسِ نکاح میں قاضی کے علاوہ ایک مرد اور دو عورتیں موجود نہ ہوں تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا ، بلکہ مذکور لڑکا لڑکی بدستور ایک دوسرے کے لئے نا محرم اور اجنبی ہیں ، اس لئے اس نکاح کو بنیاد بنا کر دونوں کا ایک دوسرے سے کسی بھی طرح کا تعلق رکھنا یا بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی التاترخانیۃ: و فی الخانیۃ: من شرائط النکاح عندنا (الی قولہ ) و فی نصاب الذرائع: وشرطہ ان یکون کلا شطریہ بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین او حضور رجل و امرأتین الخ ( الفصل السادس فی الشھادۃ فی النکاح ج 1 ص 608 ط: ادارۃ القرآن) ۔
و فی الدر المختار: ( و ) شرط ( حضور ) شاھدین ( حرین ) أو حر و حرتین ( مکلفین سامعین قولھما معاً ) علی الاصح الخ ( کتاب النکاح ج 3 ص 21 ط: سعید)۔