نکاح

اولیاء کی اجازت و موجودگی کےبغیر چھپ کر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
70282
| تاریخ :
2024-01-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء کی اجازت و موجودگی کےبغیر چھپ کر نکاح کرنا

السلام علیکم ! میں اپنی زندگی کے بہت بھاری مسئلہ میں ہوں، پلیز میری مدد کریں ، میری عمر ابھی 18 سال تھی ، تو میری پھوپھی کی بیٹے نے مجھ سے نکاح کیا مجھے بہلا کر ، لیکن اس نکاح میں ہماری فیملی میں سے کوئی نہیں تھا ، بس 2 گواہ تھے اور مولوی نے نکاح پڑھادیا ، لیکن ہم نے کسی کو نہیں بتایا ، نکاح کے کچھ عرصے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ لڑکا بہت بُرا ہے ، اور وہ شادی کرکے ہم سے بدلہ لینا چاہتا تھا ، جب مجھے پتہ چلا تو میں نے اس سے الگ ہونا چاہا ،لیکن وہ مجھے ڈرانے دھمکانے لگ گیا کہ ، اگر میں نے اس سے تعلق ختم کیا تو وہ سب کو بتا دیگا ، اور پکچرز دکھا دیگا ، اس نے مجھے بہت ڈراکر رکھا ، لیکن ابھی کچھ عرصے پہلے اس نے شادی کر لی لیکن میں ابھی تک اس سے ڈرتی ہوں بہت کہ وہ کسی کو میرے بارے میں بتا نہ دے ، لیکن ہمارا آخری سال اور 8 مہینے سے کوئی کسی قسم کا نہ رشتہ ہے نہ رابطہ ، میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں کیونکہ میری بھی رشتہ کی بات چل رہی ہے ، میں جاننا چاہتی ہوں کہ میرا نکاح تھا بھی یا نہیں ؟ اور اگر تھا تو میں کیسے اس سے الگ ہوسکتی ہوں ، کیونکہ اس کا ڈر ابھی تک میرے دل سے نہیں گیا ، وہ بہت زیادہ شیطان و ظالم ہے ، میں نہیں چاہتی کہ کسی کو پتہ چلے اور عزت جائے ، پلیز میری مدد کریں اور مجھے بتائیں کہ میرے لئے کیا حکم ہے شریعت کا ؟ میں اللہ سے بہت توبہ کرتی ہوں اور آخری سال اور 8 مہینے سے اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے ۔پلیز میری رہنمائی کریں ۔جزاک اللہ خیرا !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی لڑکے و لڑکی کا اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا شرعاً معیوب اور عرفاً انتہائی قبیح فعل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو انتہائی بُرا سمجھا جاتا ہے، عموماً اس طرح کے نکاح کا نتیجہ والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق یا خلع کی صورت میں نکلتا ہے ،اس لئے اولاً تو اس طرح نکاح کرنے سے اجتناب لازم ہے ،تاہم اگر سائلہ نے پھوپھی کے مذکور بیٹے سے دو عاقل بالغ مرد گواہان کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے نکاح کرلیا ہو اور مذکور لڑکا اور سائلہ باہم کفو بھی ہوں تواگرچہ لڑکی کے اولیاء مجلس میں موجود نہ ہوں تب بھی یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے ،لہٰذا سائلہ کا اس نکاح کو ختم کیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے سے دوسرا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوگا ، اس لئے سائلہ کو چاہئیے کہ وہ مزید کسی آزمائش اور گناہ میں مبتلا ہونے کے بجائے مذکور لڑکے کو طلاق یا خلع پر آمادہ کرکے نکاح کو ختم کرے ، اور نکاح و عدت ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے، جبکہ لڑکے کے طلاق وغیرہ پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے سمجھدار اور بااثر افراد کو معاملہ سے آگاہ کرکےان کے ذریعہ معاملات حل کرنے کی کوشش کریں ، امید ہے اللہ تعالٰی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی احکام القرآن للجصاصؒ:وانما یوجہ الحکمان لیعظا الظالم منھما وینکرا علیہ ظلمہ و اعلام الحاکم بذلک لیأخذ ھو علی یدہ فان کان الزوج ھو الظالم انکرا علیہ و قالا لہ لا یحل لک أن تؤذیھا لتخلع منک و إن کانت ھی الظالمۃ قالا لھا قد حلت لک الفدیۃ و کان فی اخذھا معذورا لما یظھر للحکمین من نشوزھا فاذا جعل کل واحد منھما الی الحکم الذک من قبلہ مالہ من التفریق و الخلع کانا مع ما ذکرنا من امرھما وکیلین جائز لھما ان یخلعا إن رأیا و ان یجمعا إن رأیا ذلک صلاحا فھما فی حال شاھدان و فی حال مصلحان و فی حال آمران بمعروف و ناھیان عن منکر و وکیلان فی حال اذا فوض الیھما الجمع و التفریق الخ ( ج2 ص193 سورۃ النساء ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان )۔
و فی مشکوۃ المصابیح:عن ابن عباسان النبی ﷺ قال الایم احق طنفسھا من ولیھا و البکر تستأذن فی اذنھا و اذنھا صماتھا الحدیث ( ج2 ص 270 باب الولی فی النکاح ط:قدیمی کتب خانہ )۔
و فی حاشیتھا:و قولہ سبحانہ و لا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن فاضاف النکاح الی النساء و نھی عن منعھن منہ و ظاھرہ أن المرأۃ یصح ان ینکح نفسھا و کذا قولہ تعالی فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف فاباح سبحانہ فعلھا فی نفسھا من غیر شرط الولی الخ ( ج2 ص270 حاشیۃ )۔
و فی الدر المختار:(و ینعقد) متلبسا ( بایجاب ) من احدھما (و قبول ) من الآخر الخ و فی رد المحتار تحت ( قولہ و ینعقد ) فقولہ و ینعقد ای النکاح ای یثبت و یحصل انعقادہ بالایجاب و القبول الخ ( ج3 ص9 کتاب النکاح ط: سعید )۔
و فیہ ایضا ( فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ) رضا ( ولی ) و الاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ و ما لا فلا الخ ۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ ولایۃ ندب ) ای یستحب للمرأۃ تفویض امرھا الی ولیھا کي لا تنسب الی الوقاحۃ بحر الخ ( ج3 ص55 باب الولی ط: سعید )۔و اللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70282کی تصدیق کریں
0     1120
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات