آنلائن نکاح کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ آنلائن نکاح کے لئے ممکنہ کونسی صورتیں استعمال کی جاسکتی ہیں؟ دولہا، دلہن اگر کسی ایک کو منتخب کریں یا اس سے زائد کو اپنا وکیل یا قانونی مشیر منتخب کریں اور انہیں نکاح کا گواہ بنائیں، تو کیا پھر یہ ممکن ہے کہ وہ شخص آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعہ نکاح کرنے کا اہل ہو؟ اس مسئلہ کے بارے میں اسلام میں اس کے علاوہ اور کون سا طریقہ بیان کیا ہے؟
واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا و لڑکی) یا ان کے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم وضروری ہے، اس لئے انٹرنیٹ پر ویڈیوکال یا ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، البتہ اگر کسی عذر اور ضرورت کی بناپر اگر متعاقدین (لڑکا و لڑکی ) دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے لئے مجلس ِنکاح میں حاضر ہونا ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں مجلسِ نکاح سے غائب شخص کو چاہئیے کہ وہ کسی حاضر شخص کو ای میل، یا فون وغیرہ کے ذریعہ اپنے نکاح کا وکیل مقرر کردے،جو اس شخص کی جانب سے 2 ایسےگواہان کی موجودگی میں جو وکیل کے علاوہ ہوں ، ایجاب یا قبول کریں، تو ایسا کرنے سے یہ نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہو جائیگا ، تاہم اگر نکاح اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کیا جائے تو ایسی صورت میں اولیاء کی عدم رضامندی اور کفاءت کی وجہ سے نکاح کے احکام الگ ہوں گے ، جس کی تفصیل بوقت ضرورت صورتِ حال بیان کرکے معلوم کی جاسکتی ہے۔
كما في الدر المختار: (وشرط سماع كل من المتعاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاھدیں (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً اھ( ج ۳ ص ۲۱ - ۲۲ ط:سعید)۔
وفي الهندية : يصح التوكيل بالنكاح وان لم یحضره الشهود اهـ (ج 1 ص ۲۹4 ط:ماجدية)۔
وفى الھدایۃ: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبرهما عن الماضى الخ (ج ۲، ص 4، ط : انعامية )۔واللہ اعلم