اگر کسی لڑکی کو کسی ایسے شخص سے شادی کرنے پر مجبور کیا جائے جو پہلے اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا تھا (نوعمری میں اسے بلیڈ سے کاٹتا تھا) اور اس کی ماں نے چاقو لے لیا اور کہا کہ اگر لڑکی نے اسی لڑکے سے شادی نہیں کی تو وہ خود کو مار ڈالے گی؟ اس کے بعد نکاح ہوا ، کیا یہ نکاح درست ہے ؟ کیونکہ لڑکی کبھی بھی شادی نہیں کرنا چاہتی اس نے صرف اپنی ماں کے لئے کی تھی کہ وہ اپنی کلائی نہ کاٹیں یا خودکشی نہ کرے ، پلیز تصدیق کریں ، وہ میری کزن ہے اور وہ یہ جاننا چاہتی ہے۔
واضح ہو کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کے والدین کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس پر زبر دستی کر کے اپنی چاہت والی جگہ اسے نکاح پر مجبور کریں ، بلکہ لڑکی کی اجازت و رضا مندی کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے ، تاہم اگر لڑکی نہ چاہتے ہوئے بھی دوران نکاح ایجاب و قبول کر لے یا اپنی آمادگی ظاہر کر دے ، تو یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہو جاتا ہے ، لہذا سائل کی کزن نے اگر اپنی ماں کی خود کشی کے ڈر سے نہ چاہتے ہوئے بھی دوران نکاح ایجاب و قبول کر لیا ہو اور اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہو تو ایسی صورت میں مذکور لڑکے سے اس کا نکاح شرعاً درست ہوکر منعقد ہو چکا ہے ، اس لئے بلا وجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔
كما في الهداية : و لا يجوز للولي إجبار البكر البالغ على النكاح الخ ( باب في الأولياء والأكفاء، ج ا، ص191، ط : دار إحياء التراث العربي )-
و في رد المحتار تحت (قوله ليتحقق رضا هما ) أي ليصدر منهما ما من شانه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع ا الإكراه والهزل انتهى الخ ( مطلب هل ينعقد النكاح بالألفاظ المصحفة نحو تجوزت، ج ۳، ص۲۱، ط : سعید)-
و في الفتاوى الهندية : لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته جاز وإن ردته بطل كذا في السراج الوهاج انتهى الخ (الباب الرابع في الأولياء في النکاح ، ج ا، ص 287، ط : دار الفكر)-