کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے میری سگی بھتیجی کے ساتھ نکاح کیا ہوا ہے، یہ نکاح شرعی طور پر منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟ اور اب میرے لئے یا میرے شوہر کے لئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ بیوی کے نکاح میں موجود ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کے لئے سائلہ کی بھتیجی کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں تھا ، جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار کرنا اور اب الفاظ متارکہ (میں نے چھوڑ دیا وغیرہ)کہہ کر فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن ابی ھریرہ ان رسول اللہ ﷺ قال لا یجمع بین المراۃ و عمتھا ولا بین المراۃ و خالتھا الحدیث(کتاب ۔النکاح۔ج 1 رقم 1028)۔
وفی الدر المختار : (ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد)وھو الذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود (بالوطء)فی القبل (لا بغیرہ)کالخلوۃ(الی قولہ) (ولم یزد )مھر المثل (علی المسمی ) (الی قولہ) (و) یثبت (لکل واحد منھما فسخۃ ولو بغیر محضر عن صاحبہ دخل بھا او لا)فی الاصح خرجا عن المعصیۃ(الی قولہ) (وتجب العدۃ بعد الوطء) لا الخلوۃ للطلاق لا للموت (من وقت التفریق)او متارکۃ الزوج الخ(کتاب ۔ النکاح ۔ج 3 ص 131)۔
وفی رد المحتار: تحت(قولہ کشھود)ومثلہ تزوج الاختین معاً ونکاح الاخت فی عدۃ الاخت ونکاح المعتدۃ والخامسۃ فی عدۃ الرابعۃ الخ(ج3 ص131)۔واللہ اعلم