کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری پہلے شادی ہوئی تھی ، جس سے میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے، پھر خلع کے بعد میں نے دوسری شادی کی ، اور جس شخص سے شادی کی تھی اس کی پہلی بیوی سے ایک بیٹا موجود تھا ، اب میں اپنی پہلی شادی سے لائی ہوئی بیٹی اور دوسرے شوہر کے مذکور بیٹے کا نکاح کرنا چاہتی ہوں ، تو ان دونوں کا نکاح شرعی اعتبار سے درست ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کی بیٹی کا نکاح سائلہ کے دوسرے شوہر کے بیٹے کے ساتھ جائز اور درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
قال اللہ تعالی: واُحلَّ لکم مّا ورآءکم ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم مّحصنین غیر مصافحین ( سورۃ النساء ایۃ 24) ۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ ؛ لا بأس بأن یتزوّج الرجل امرأۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا أو أمھا کذا فی محیط السرخسی (ج 1 ص 277 الباب الثالث فی بیان المحرمات کتاب النکاح ) ۔ واللہ اعلم